نیویارک: مریکہ میں تین 3 امریکی فوجی شعبے سینیٹ کی طرف سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے سربراہوں کے بغیر چل رہے ہیں کیونکہ ریپبلکن سینیٹر ٹومی ٹوبر ویل نے پنٹاگان کی اسقاط حمل کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 300 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران کی تقرری کو معطل کر دیا۔امریکی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد مثال ہے جس میں تین امریکی فوجی شعبے قیادت کے بغیر چل رہے ہیں۔نیول آپریشنز کے سربراہ جنرل مائیک گلڈے نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، بحریہ، فوج اور میرین کور بھی سربراہوں کے بغیر قائم مقام سربراہوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ڈیفنس سکریٹری لائیڈ ا?سٹن نے ان معطلیوں پر تنقید کی کیونکہ تعطل کا یہ عمل پانچوین مہینے میں داخل ہوگیا ہے اور کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے۔آسٹن نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اس مکمل معطلی کی وجہ سے محکمہ دفاع کی تاریخ میں پہلی بار ہمارے تین فوجی کمانڈزیونٹ سینیٹ سے تصدیق شدہ کمانڈروں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر مسبوق، غیر ضروری اور غیر محفوظ ہے اور اس سے امریکہ کی فوجی تیاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اناپولس، میری لینڈ میں یو ایس نیول اکیڈمی میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکی افواج بہتر کی مستحق ہیں۔ فوجی ترقیوں پر پابندی فوجی خدمات کو بہترین افسران کو برقرار رکھنے سے روکتی ہے۔امریکہ اور تاریخ کی سب سے خطرناک جنگی قوت، پوری طاقت اور دفاع کے لیے یقینی قیادت کی تیز رفتار منتقلی ضروری ہے۔آسٹن نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سینیٹ تمام اہل فوجی نامزدگیوں کی منظوری دے، خاص طور پر 33 ویں چیف آف نیول آپریشنز کی تقرری عمل میں لائی جائے۔صدر جو بائیڈن نے جنرل لیزا فرنچٹی کو بحریہ کی کمان کرنے والی پہلی خاتون بننے کے لیے نامزد کیا تھا۔ً