مذہب تبدیل کرنے والے خاندان کی نعش کو قبر سے نکال کر عیسائی قبرستان میں دفن کرنے کا مطالبہ
نارائن پور : چھتیس گڑھ میں نارائن پور اور کونڈاگاؤں کی سرحد کے قریب واقع بھٹ پال گاؤں میں تبدیلی مذہب کو لے کر دوفریقوں کے درمیان پھر سے کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ گزشتہ دو دنوں سے ضلعی انتظامیہ کے افسران کی جانب سے دونوں اطراف کے لوگوں کو سمجھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن بات بنتی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ گونڈوانا برادری کے لوگوں کی طرف سے کلکٹر کو بھیجے گئے میمورنڈم کو دیکھ کرمذہب تبدیل کرنے والے خاندان کی لاش کو قبر سے نکال کر گاؤں سے دور عیسائی قبرستان میں دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بنور پرگنہ کے قبائلی طبقہ کے لوگوں کی جانب سے میمورنڈم پیش کرنے کے موقع پر کلکٹریٹ کے احاطے میں پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ بلودہ بازار واقعے کے بعد پولیس سیکیورٹی کے حوالے سے ہائی الرٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ سیکورٹی کے تین درجے انتظامات کیے گئے تھے ۔ دریں اثنا، پیر کی شام قبائلی تحفظ منچ کے قومی رکن رام ناتھ کشیپ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اصل قبائلی مذہب کو چھوڑ کر عیسائی مذہب سے جڑے خاندان کے ایک فرد کی موت کے بعد لاش کو گاؤں میں دفن کرنے پر شدید اعتراض کیا گیا ہے ۔ قبائلی تحفظ منچ کی جانب سے بستر میں لاشوں کو دفن کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اورعوامی مسائل کے ازالے کے کیمپوں کی طرز پر ہر گاؤں میں مذہب تبدیل شدہ خاندانوں کی شناخت کے لیے کیمپ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔