رپورٹ 15 یوم میں متوقع ۔ پوسٹ مارٹم سے موت کے قطعی سبب کا پتہ نہیں چلا، سیول سرجن اے این ڈے کا بیان
جمشیدپور ، 28 جون (سیاست ڈاٹ کام) جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد کے شکار تبریز انصاری کے پیٹ کے اعضاء کو رانچی کے فارنسک لیاب کو بھیجا گیا ہے تاکہ اُس کی موت کے قطعی سبب کا پتہ چلایا جاسکے کیونکہ اُس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کوئی اشارہ نہیں دیا ہے، ایک سینئر ڈاکٹر نے آج یہ بات کہی۔ ضلع سرائے کیلا۔ کھرساون کے سیول سرجن اے این ڈے نے کہا کہ تبریز کی موت کے قطعی سبب کی اسی وقت تصدیق کی جاسکتی ہے جب فارنسک لیاب رپورٹ پندرہ دنوں میں حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم ضلع نظم ونسق کے تشکیل کردہ تین رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں کیمرہ کی نظروں میں انجام دی گئی۔ 24 سالہ تبریز کو 17 جون کو چوری کے شبہ میں موضع دھتکیڈیہہ میں ہجوم نے مبینہ طور پر کھمبے سے باندھ کر لاٹھیوں سے خوب پیٹا تھا۔ نیا شادی شدہ تبریز ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اسے جئے شری رام اور جئے ہنومان بولنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ابھی تک اس واقعہ کے سلسلے میں 11 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ تبریز کو جب اُس نے 21 جون کو بے چینی محسوس ہونے کی شکایت کی تب فوری سرائے کیلا ڈسٹرکٹ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا۔ 22 جون کو اسے ٹاٹا ہاسپٹل جمشیدپور کو بھیجا گیا جہاں اُسے مردہ لائے جانے کی تصدیق کی گئی۔ تبریز کی موت اچانک واقع ہونے کا شبہ کرتے ہوئے اے این ڈے نے کہا کہ جیل میں نصب سی سی ٹی وی کے فوٹیج سے ظاہر ہوا کہ اُس پر حملے کے بعد کی صبح وہ ٹائلٹ سے واپس ہوا، ساتھی قیدی سے پانی مانگا اور اسے پیا۔ڈے نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ تبریزکو بائیں پیر اور ہاتھ پر زخم پائے گئے اور اُس کے سر پر کٹنے کا نشان بھی پایا گیا۔ کوئی داخلی انجری کا پتہ نہیں چلا۔ سیول سرجن نے مزید کہا کہ تبریز میں برین ہیمریج کی علامتیں پائی گئیں اور نہ ہی اُس نے حملے اور موت کے درمیان چار یوم کے دوران سردرد کی شکایت کی تھی۔