ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کیلئے شراب پر ٹیکس میں اضافہ کا بہانہ

   

ملک کی پانچ ریاستوں میں نشہ بندی نافذ، زائد ٹیکس عائد کرنے والی ریاستوں میں تلنگانہ ، اترپردیش اور آندھراپردیش شامل
حیدرآباد ۔27 ۔ فروری (سیاست نیوز) ہندوستان میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے حکومتوں کا زیادہ تر انحصار ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے ۔ بعض ٹیکس ایسے ہیں جو مرکزی حکومت وصول کرتے ہوئے ریاستوں کو حصہ داری دیتی ہے جبکہ بعض ٹیکس راست طور پر ریاستوں کی جانب سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ مرکز اور ریاستوں کے ٹیکسوں کے نتیجہ میں اضافی بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے جس کی فکر حکمرانوں کو نہیں۔ حکومتوں کو ٹیکس کی صورت میں زائد آمدنی شراب کی فروخت سے ہوتی ہے۔ کئی ریاستوں نے ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے شراب کی فروخت کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ چند ایک ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے سماج میں برائیوں کے خاتمہ کیلئے نشہ بندی نافذ کی ہے۔ شراب کی فروخت سے ریاستوں میں ٹیکس کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی ، ویاٹ اور ریاستوں کے خصوصی سرچارج کے نتیجہ میں شراب پر ٹیکس میں اضافہ کا رجحان ہے۔ ملک میں یوں تو سماجی برائیوں کے خاتمہ کیلئے نشہ بندی کا نظریہ مہاتما گاندھی اور دیگر مجاہدین آزادی نے پیش کیا تھا لیکن بہت کم ریاستوں میں عمل آوری کی گئی۔ متحدہ آندھراپردیش میں آنجہانی این ٹی راما راؤ نے نشہ بندی نافذ کرتے ہوئے خواتین کی تائید حاصل کی تھی۔ بعد کے حکمرانوں نے سرکاری خزانہ کو بھرنے کیلئے نشہ بندی کو ختم کردیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ شراب کی دکانات کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ دیہی سطح پر خواتین کی جانب سے نشہ بندی کا مطالبہ آج بھی برقرار ہے لیکن حکومتوں کو سماجی برائیوں کے خاتمہ سے زیادہ سرکاری خزانہ اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کی فکر لاحق ہے۔ ہندوستان کی جن ریاستوں میں نشہ بندی نافذ ہے ، ان میں گجرات ، ناگالینڈ ، میزورم ، بہاراور لکشادیپ شامل ہیں لیکن ان ریاستوں میں غیر قانونی طریقہ سے شراب کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے اور غیر قانونی شراب کے استعمال سے وقتاً فوقتاً ہلاکتیں بھی واقع ہورہی ہیں۔ شراب کی فروخت سے جن ریاستوں میں زائد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ، ان میں تلنگانہ ، آندھراپردیش ، اترپردیش ، ٹاملناڈو ، کرناٹک ، کیرالا اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ تلنگانہ میں مقامی ٹیکسوں کی بشمول تقریباً 72 فیصد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ اترپردیش میں شراب پر ٹیکس 69 فیصد ہے جبکہ آندھراپردیش میں 60 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں کم ٹیکس والی ریاستوں میں 30 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، جن میں راجستھان ، اڈیشہ ، تریپورہ ، میگھالیہ ، دہلی ، سکم اور پڈوچیری شامل ہیں۔ اوسط ٹیکس یعنی 30 تا 50 فیصد والی ریاستوں میں پنجاب ، جموں و کشمیر ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، سکم ، اروناچل پردیش اور اترا کھنڈ شامل ہیں۔ نشہ بندی کے حق میں مہم چلانے والے جہد کاروں نے سماجی برائیوں کے خاتمہ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا لیکن حکومتوں میں شامل افراد اور عہدیداروں کا ماننا ہے کہ نشہ بندی کی صورت میں سرکاری خزانہ پر پڑنے والے منفی اثرات کی پابجائی ممکن نہیں ہے۔ نشہ بندی کی صورت میں ترقیاتی کاموں پر عمل آوری کے لئے عوام پر اضافی ٹیکس کا بوجھ عائد کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نشہ بندی والی ریاستوں میں بھی قانون کا سختی سے نفاذ نہیں ہے۔ الکحل کے زائد استعمال کے سلسلہ میں ایک سروے کے مطابق کیرالا سرفہرست ہے۔ آندھراپردیش ، تلنگانہ ، کرناٹک ، پنجاب ، مہاراشٹرا ، ہریانہ ، مغربی بنگال ، اترپردیش اور دہلی میں بھی الکحل کے استعمال کا رجحان زیادہ ہے۔1