ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے چین ،قرض کی عدم ادائیگی پر کینیا کے اثاثے ضبط کر سکتا ہے ڈریگن

   

قرضوں کے بھاری بھرکم بوجھ تلے دبے کینیا کی مصیبت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس کے سامنے ایک اور بحران آکھڑا ہوا ہے۔ قرض نہ ادا کرنے کی صورت میں چین اس کی جائیداد ضبط کرسکتا ہے۔ 2014 کے بعد سے کینیا نے اپنے بنیادی ڈھانچے ، پروجیکٹوں جیسے سڑکوں، صاف بجلی پروڈکشن پلانٹ اور اپنے سب سے بڑے پروجیکٹ اسٹینڈرڈ گیز ریلوے (ایس جی آر) کے لیے چین سے بہت بڑا قرض لیا ہے۔فائنانشیل پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، سینٹرل بینک آف کینیا کے مابق، جون 2022 تک کینیا کا بیرونی قرض 36.4 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ چین ورلڈ بینک کے بعد کینیا کا سب سے بڑا بیرونی قرض وصول کرنے والا ہے۔ کینیا نے اس مدت میں چینی قرض پر مجموعی طور پر 117.7 بلین کے ایس ایچ یعنی 972.7 ملین امریکی ڈالر خرچ کیے، اس میں سے 24.7 بلین کے ایس ایچ (204.1 ملین امریکی ڈالر) صرف قرض کی ادائیگی ہے۔