Saturday , December 5 2020

ترنمول دور میں بنگال کو غیر قانونی بم تیاری کی فیکٹری بنادیا گیا : بی جے پی

مالڈا دھماکہ کیس میں مرکز کی مداخلت پر زور ۔ بی جے پی مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتی ہے ۔ ترنمول کا رد عمل

کولکاتہ ۔ مغربی بنگال میں اپوزیشن بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ مالڈا دھماکہ کیس میں مرکزی حکومت مداخلت کرے ۔ بی جے پی نے الزام عائدکیا کہ ریاست کو ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں غیر قانونی بم بنانے کی فیکٹری میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ برسر اقتدار ترنمول کانگریس نے بی جے پی کی تنقید پر جوابی وار کیا ہے اور کہا کہ بی جے پی 2021 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مالڈا ضلع کے شجاع پور میں ایک پلاسٹک فیکٹری میں ہوئے دھماکہ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس کے نتیجہ میں ریاست میں سیاسی جنگ شروع ہوگئی تھی اور بی جے پی اور ترنمول کانگریس کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس دھماکہ کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں جبکہ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مالڈا دھماکہ کی تحقیقات کے معاملہ میں مرکزی حکومت کی مداخلت ہونی چاہئے صرف مرکزی ایجنسیاں ہی اس مسئلہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس اس مسئلہ کی تحقیقات کرنے کی بجائے اس کیس کو دبانے کی کوشش کرینگی ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکہ کے پس پردہ خاطیوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مغڑبی بنگال میں اس طرح کے دھماکے عام بات ہوگئے ہیں ۔ ہر روز اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں بنگال کو غیر قانونی طور پر بم بنانے کی فیکٹری میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری و بنگال امور کے نگران کیلاش وجئے ورگیہ نے آج کہا کہ پارٹی اس مسئلہ پر مرکزی وزارت داخلہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس دھماکہ کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کروانے کی خواشہ کرے گی ۔ ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس پارٹی نے پہلے ہی این آئی اے تحقیقات کا امکان مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مغربی بنگال کے وزیر براتیہ باسو نے کہا کہ چند سال قبل بھی اس طرح کا دھماکہ گجرات میں ایک کمیکل فیکٹری میں ہوا تھا ۔ کچھ لوگ اس میں ہلاک بھی ہوئے تھے اور کئی دوسرے زخمی بھی ہوئے تھے ۔ اس کے باوجود ہم نے اس میں کسی طرح کی دہشت گردی کے امکان کا شبہ ظاہر نہیں کیا تھا ۔ گانہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایسا اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ بنگال میں فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حادثات ہوتے ہیں اور جب کبھی بنگال میں کوئی حادثہ ہوتا ہے بی جے پی اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT