محکمہ زراعت صارفین کو راحت پہونچانے میں ناکام، معاشی تنگی کے دور میں عوام پر بوجھ
حیدرآباد۔ ترکاریوں کی قیمتو ںمیں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں اورحکومت کی جانب سے غریب عوام کو راحت پہنچانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں ترکاریوں کی طلب کے مطابق ترکاریاں نہ پہنچنے کے سبب قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک یہی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ محکمہ زراعت کے عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست کے جن مقامات سے شہر حیدرآباد کو ترکاریاں لائی جاتی تھیں ان مقامات پرشدید بارشوں کے سبب فصلیں تباہ ہونے کے سبب پیداوار میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے شہر حیدرآباد کو ترکاریاں جس مقدار میں لائی جانی چاہئے اس مقدار میں نہیں پہنچ پا رہی ہیں جو کہ قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ شہر حیدرآباد کے رعیتو بازاروں میں ترکاریوں کی قیمتوں پر قابو پانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات ناکافی ثابت ہونے لگے ہیں جبکہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کی جانب سے بعض ترکاریاں انتہائی کم قیمتوں میں فروخت کی جا رہی ہیں۔ حیدرآباد کے بازاروں میں ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں عام طور پر محکمہ زراعت کی جانب سے عوام میں ترکاریوں کی فروخت کے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جاتے تھیتاہم گذشتہ تین سے ترکاریوں کی قیمتو ںمیں مسلسل اضافہ اور شہر میں ترکاریوں کی قلت کو دور کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے عوام کی جانب سے مہنگے داموں میں ترکاریوں کی خریدی کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس مسئلہ کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے لیکن شہر حیدرآباد کے عوام میں حکومت کے تعلق سے بدظنی پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ پر قابو پانے میں ناکام تو ہورہی ہے لیکن عوام کو راحت پہنچانے کیلئے کسی بھی طرح کے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ زراعت کی جانب سے سابق میں پیاز ‘ ٹماٹر‘ بینیس‘ بینگن اور دیگر ترکاری کی وارڈ واری اساس پر فروخت کے انتظامات کئے جاچکے ہیں تاکہ شہریوں کو ترکاریوں کی اضافی قیمتوں سے راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکیں لیکن ریاستی حکومت اور محکمہ زراعت کی جانب سے اس مرتبہ ایسے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے سبب عوام میںشدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے کیونکہ تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے اور آمدنی کم ہونے کے اس دور میں مہنگائی کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔