ترک حکومت پر حماس کی اعلی قیادت کو ترک شہریت دینے کا الزام

   

دبئی: برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی نے فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سینیر رہنماؤں کو ترکی کی شہریت دینے کا عمل شروع کیا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ فلسطینی گروپ دنیا بھر میں اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مزید آزادی حاصل کریگا۔ اخبار نے ایک اہم ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس کے 12 کارکنوں میں سے کم از کم ایک نے ترک شہریت اور 11 ہندسوں کا شناختی نمبر حاصل کیا ہے۔ پاسپورٹ کے علاوہ 12 میں سے 7 نے ترک شہریت حاصل کی ہے جبکہ باقی افراد آنے والے دنوں میں شہریت حاصل کریں گے۔ ان میں سے کچھ نے اپنے نام تبدیل کرکے ترک ناموں کے مطابق رکھے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حماس کے جن سرکردہ لیڈروں کو شہریت دی گئی ہے وہ ’’جنگجو‘‘ نہیں ہیں، لیکن وہ غزہ کے باہر حماس کے نامور کارکن ہیں۔