انقرہ:جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانس میں ہونے والے فسادات کا ذمے دار ادارہ جاتی نسل پرستی سلاموفوبیا اور اس ملک کے نوآبادیاتی ماضی کو قرار دیا ہے۔فرانس میں گذشتہ منگل کو الجزائر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ لڑکے کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد سے ملک گیراحتجاج اور فسادات جاری ہیں۔ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ خاص طور پر ان ممالک میں جو اپنے نوآبادیاتی ماضی کے لیے جانے جاتے ہیں ثقافتی نسل پرستی ادارہ جاتی نسل پرستی میں تبدیل ہو چکی ہے۔انھوں نے کہافرانس میں شروع ہونے والے واقعات کی جڑ اس ذہنیت کی بنیاد پر تعمیرکردہ سماجی ڈھانچے پرہے جن تارکین وطن کو الگ تھلگ بستیوں میں رہنے پرمجبورکیا جاتا ہے اورجن پر منظم طریقے سے ظلم کیا جاتا ہے، ان میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔ترک صدر نے مزید کہابدقسمتی سے تشدد نے تشدد کو جنم دیا اور آج یہ واقعات رونما ہورہے ہیں۔