ترک پارلیمانی انتخابات میںقصاب جمال پاشا کے پوتے کو شکست کا سامنا

   

استنبول : عثمانیہ دور کے مشہور گورنر احمد جمال پاشا کے پوتے کو پارلیمنٹ کے انتخابات میں شکست کی ہزیمت کا سامنا ہے۔ انہوں نے گرین لیفٹ پارٹی کی جانب سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ الیکشن جیتنے کی صورت میں انہیں سب سے قدیم رکن پارلیمان کا اعزاز بھی ملنا تھا۔ وہ ایک صحافی اور مصنف بھی ہیں۔ حسن جمال کی سوانح عمری میں بتایا گیا ہے کہ وہ عثمانی گورنر احمد جمال پاشا کے پوتے ہیں۔ احمد جمال پاشا کو ایک قصاب کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ ان سے منسوب قصے ہیں۔ انہوں نے پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں دسیوں لبنانیوں اور شامیوں کو موت کی گھاٹ اتارا تھا۔یہ قتل و غارت گری دمشق کے مرجہ سکوائر اور بیروت کے البرج سکوائر میں کی گئی تھی۔ پچاس کی دہائی سے اس سکوائر کو شہدا کا سکوائر کہا جاتا ہے۔1944ء میں استنبول میں پیدا ہونے والے حسن جمال 1981ء سے 1992ء تک اخبار ‘‘جمہوریت‘‘کے چیف ایڈیٹر رہے۔ پھر اخبار ’’صباح‘‘اور پھر 1998ء￿ میں اخبار ’’ملییت‘‘کے چیف ایڈیٹر رہے۔ اس کے 5 سال بعد انہوں نے استعفی دے دیا۔ 2013 سے آزاد نیوز سائٹ ‘‘ٹی 24’’ پر کام کر رہے ہیں۔ ‘‘ العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ سے بات چیت کرتے میں انہوں نے اپنے کیئریئر کے متعلق مختصر انداز میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں ہی صدر اردغان پر تنقید کرنے کی وجہ سے ان پرمقدمہ چلایا گیا۔ صدر کی توہین کا الزام عائد کیا گیا اور سرکاری وکیل نے مجے 4 سال 8 ماہ قید کی سزا کا مطالبہ کیا۔