چیف منسٹر کو کانگریس کا مکتوب، خانگی اسکولوں کو حکومت کی امداد کا مطالبہ
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں تعلیم اور اسکولوں کے علاوہ اساتذہ کے تحفظ کیلئے فوری طور پر تعلیمی اداروں کی کشادگی کا مطالبہ کیا ہے۔ سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی محمد سلیم نے چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کورونا لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے باوجود اسکولوں کی عدم کشادگی کے سبب طلبہ کو ہونے والے نقصانات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے سبب خانگی اسکول انتظامیہ اور ان کے اساتذہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سماج میں تعلیم کو عام کرنے میں خانگی اسکولوں کا اہم رول ہے ۔ ملک کیلئے ذمہ دار شہریوں کو تیار کرنا شعبہ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 20 ہزار سے زائد خانگی اسکول ہیں جن میں 3 تا 4 لاکھ اساتذہ برسر خدمت ہیں۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ کا غیر تدریسی عملہ ہے۔ طلبہ کی تعداد تقریباً 20 لاکھ سے زائد ہے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے تمام اسکولس بند ہیں اور نصف سے زائد اسکول بند ہونے کے قریب ہیں کیونکہ وہ عمارت کا کرایہ، اساتذہ کی تنخواہ اور دیگر اخراجات کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ 3 تا 4 لاکھ اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ بے روزگار ہوچکا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے مئی 2020 سے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔ شراب کی دکانیں، ریسٹوران ، سنیما ہالس اور دیگر سرگرمیاں بحال کردی گئیں کیونکہ ان سے حکومت کو بھاری ٹیکس وصول ہوتا ہے لیکن اسکولوں کے آغاز کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسکولوں سے حکومت کو ٹیکس کا کوئی فائدہ نہیں ہے لہذا طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے حکومت بے حس ہے۔ کئی ریاستوں نے اسکولوں کے آغاز کا فیصلہ کیا جن میں آندھرا پردیش، ٹاملناڈو، کرناٹک، مہاراشٹرا ، آسام اور منی پور شامل ہیں۔ محمد سلیم نے تعلیمی شعبہ کے علاوہ خانگی اسکولوں اور اساتذہ کے تحفظ کے لئے فوری طور پر اسکولوں کی کشادگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر خانگی اسکول کو ماہانہ 4 تا 5 لاکھ روپئے کی امدد دی جائے تاکہ وہ اپنے نقصانات کی تلافی کرسکیں۔ اسکول عمارتوں کا پراپرٹی ٹیکس، میونسپل ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، الیکٹریسٹی اور واٹر چارجس معاف کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا گائیڈ لائنس کے ساتھ اسکولوں کی کشادگی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن کلاسیس ہر طالب علم کے بس میں نہیں ہیں لہذا حکومت کو باقاعدہ کلاسیس کا آغاز کرنا چاہیئے۔