تلبیہ کی گونج میں مناسک حج کا آغاز، آج وقوفِ عرفات

,

   

طواف کے بعد اللہ کے مہمانوں کی منیٰ میں آمد عازمین کی صحت و سلامتی کے معقول انتظامات

ریاض: تلبیہ کی گونج میں مناسک حج کا آج آغاز ہوگیا۔ خوش نصیبوں کا انتظار ختم ہوگیا۔عازمین نے قرنطینہ ختم کرکے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔عازمین کے قافلے آج صبح طواف کعبہ کے بعد مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچے۔ اس سال فریِضہ حج ادا کرنے والوں میں 70 فیصدسعودی عرب میں مقیم غیرملکی فرزندان توحید شامل ہیں جبکہ 30 فیصد کورونا کے خلاف لڑنے والے سعودی شہری ہیں۔عازمین میں اسلامی ممالک سمیت 160 ممالک کونمائندگی حاصل ہے۔ عازمین حج کا کارواں سکیورٹی فورس کے دستوں، میڈیکل ٹیموں، موبائل ہاسپٹلس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں اور ملازمین کے حصار میں مکہ سے منیٰ منتقل ہوا۔ عازمین کی بسیں 50 فیصد گنجائش کے ساتھ ہی استعمال کی گئیں۔ عازمین حج مکہ مکرمہ سے منیٰ جاتے ہوئے ترانہ بندگی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں بلند کررہے تھے اورکورونا وبا کے ماحول میں حج کی سعادت ملنے پرانتہائی مسرور تھے۔ اس دوران انتہائی روح پرور مناظر دیکھے گئے۔ اس سال کورونا وبا کے سبب حج کے محدود انتظامات کئے گئے ہیں اور منیٰ جہاں ہر سال خیموں کا شہر آباد ہوتا ہے رواں برس صرف ایک ہی حصہ آباد ہوگا۔عازمین 8 ذی الحجہ کو ظہر ، عصر، مغرب اورعشاء کی نمازیں منیٰ میں ادا کریں گے اور جمعرات 9 ذی الحجہ کو فجر کی نماز ادا کرکے میدان عرفات کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں حج کا رکنِ اعظم وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا۔ اس سال حج کا خطبہ 89سالہ علامہ عبداللہ بن سلیمان المنیع دیں گے۔ شیخ عبداللہ المنیع سعودی عرب کے ممتاز علما بورڈ کے رکن اور ایوان شاہی کے مشیر ہیں۔ رواں برس حج ادا کرنے والوں کو 5 دن مکہ مکرمہ کے ایک ہوٹل میں آئسولیٹ کیا گیا تھا تاکہ کورونا وائرس کی منتقلی کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔خیال رہے سعودی عرب نے کورونا کی وبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا ہے۔ رواں سال صرف دس ہزار افراد کو فریضہ مقدسہ کی ادائیگی کی سعادت حاصل ہوگی۔