سیاسی ہلچل، پارلیمنٹ میں اجازت، اسمبلی میں امتناع، سابق ارکان کی ناراضگی
حیدرآباد ۔ 28 مارچ (سیاست نیوز) اسمبلی اجلاس کے دوران سابق عوامی نمائندوں کے داخلے پر پابندی نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے بجٹ سیشن سے قبل ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے سابق ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کے اسمبلی میں داخلے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کردی ہے جس پر سابق ارکان نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسمبلی کے باہر لا اینڈ آرڈر پولیس اور اسمبلی کے اندر مارشل سیکوریٹی احکامات پر سختی سے عمل آوری کررہے ہیں اور سابق ایم ایل ایز، ایم ایل سیز اور ایم پیز کو مین گیٹ پر ہی روک دیا جارہا ہے حالانکہ ماضی میں یہی سابق ارکان اسمبلی لابی میں آ کر چیف منسٹر اور وزراء سے ملاقات کرتے تھے۔ اپنے مسائل خاص طور پر طبی سہولیات، پنشن کے علاوہ عوامی مسائل کو پیش کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کیلئے نمائندگیاں کرتے تھے۔ اب انہیں اس سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ سابق اراکین کا کہنا ہیکہ انہیں اب نہ صرف اسمبلی لابی بلکہ اس کورویڈور تک جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جہاں لیجسلیچر پارٹی کے دفاتر موجود ہیں۔ گزشتہ چار پانچ دنوں سے کئی سابق ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل، ارکان پارلیمنٹ اسمبلی کو پہنچ رہے ہیں لیکن پولیس انہیں واپس لوٹا رہی ہے۔ حتیٰ کہ اندر موجود وزراء سے فون پر رابطہ کرنے کے باوجود انہیں کوئی مثبت جواب نہیں مل رہا ہے۔ اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی۔ سی پی آئی کے سابق اسٹیٹ سکریٹری و سابق رکن اسمبلی چاڈا وینکٹ ریڈی کو بھی پولیس نے روک لیا تاہم انہوں نے سی ایم او حکام سے براہ راست رابطہ کیا جس کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ سابق عوامی نمائندوں نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہاں تک تلنگانہ کے قیام کے بعد بھی ایسے کوئی قواعد نہیں تھے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمنٹ میں سابق ارکان کے داخلے کی اجازت ہے تو پھر یہاں کیوں روکا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس نئے فیصلے پر وضاحت طلب کی۔2