(تلنگانہ اسمبلی میں وقفہ سوالات)

   

l گرام پنچایتوں میں انفراسٹرکچر اور سڑ کوں کی تعمیر
l ریاست میں 70 نئے میونسپلٹیز کا قیام
l انڈسٹریل پارکس کیلئے 35 مقامات کی نشاندہی
l تلنگانہ میں عنقریب جامع سیاحتی پالیسی
l محکمہ ا کسائز سے 8 ماہ میں 20 ہزار کروڑ کی آمدنی
l گاندھی اور پیٹلہ برج ہاسپٹلس میں مصنوعی
تولیدی مراکزکا قیام
l 1913 سرکاری اسکولوں میں صفر داخلے
حیدرآباد ۔16۔ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر پنچایت راج ڈی انوسویا سیتکا نے بتایا کہ حکومت نے تلنگانہ کے تمام گرام پنچایتوں میں بی ٹی روڈس کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے ۔ گرام پنچایتوں اور رہائشی کالونیوں میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سی ایچ ومشی کرشنا اور دوسروں کے سوال پر وزیر پنچایت راج نے کہا کہ محکمہ پنچایت راج و دیہی ترقی کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں کئی گرام پنچایتوں میں مناسب سڑکیں نہیں ہیں۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ عنقریب بی ٹی روڈس کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا جائے گا تاکہ دیہی علاقوں میں آمد و رفت کی سہولتیں بہتر ہو ۔ ریاست میں گرام پنچایتوں کی تعداد 12941 ہے جن میں سے سڑکوں سے مربوط گرام پنچایتوں کی تعداد 12607 ہے۔ 334 گرام پنچایت ایسے ہیں جو سڑکوں سے مربوط نہیں ہے اور حکومت ایسے گرام پنچایتوں میں ترجیحی بنیادوں پر بی ٹی روڈ تعمیر کرے گی۔ کانگریس کے ارکان ومشی کرشنا ، بالو نائک اور مال ریڈی رنگا ریڈی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ بی آر ایس حکومت نے گرام پنچایتوں کی ترقی کو نظر انداز کردیا تھا۔ انہوں نے حکومت سے در خواست کی کہ سہولتوں کی تعمیر کا کام جلد شروع کیا جائے۔1
ll وزیر پنچایت راج ڈی انوسویا سیتکا نے تلنگانہ اسمبلی کو بتایا کہ ریاست میں 70 نئی میونسپلٹیز قائم کی گئی ہے۔ کانگریس کے ایم سیمویل کے سوال پر وزیر پنچایت راج نے کہا کہ ڈسمبر 2014 سے ڈسمبر 2023 تک 70 نئی میونسپلٹیز قائم کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ میونسپلٹیز میں کنٹراکٹ بنیاد پر خدمات انجام دینے والے سنیٹری ورکرس کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے آؤٹ سورسنگ صفائی ورکرس کو خدمات سے برطرف کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنحواہوں میں اضافہ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ نئی میونسپلٹیز کو فنڈس کے الاٹمنٹ کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ll وزیر بھاری مصنوعات ڈی سریدھر بابو نے تلنگانہ اسمبلی کو بتایا کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے ریاست میں نئے انڈسٹریل پارکس کے قیام کے لئے 13741 ایکر اراضی کی35 مختلف مقامات پر نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی کے وینکٹ رمنا ریڈی کے سوال پر وزیر بھاری مصنوعات نے کہا کہ انڈسٹریل پارک کے قیام کیلئے نشاندہی کردہ اراضی میں 2238 ایکر سرکاری اراضی ہیں۔ جبکہ 7638 ایکر اسائینڈ لینڈ اور 3765 ایکر پٹہ اراضی ہے۔ حکومت کی جانب سے مروجہ طریقہ کار کے تحت یہ اراضی حاصل کی جائے گی۔ ریونیو حکام کی جانب سے اراضیات کے حصول کے بعد انڈسٹریل پارک کے لئے درکار انفراسٹرکچر کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لے آؤٹ کی منظوری کے بعد انڈسٹریل پارک کیلئے مختلف محکمہ جات سے درکار منظوری حاصل کی جائے گی ۔ 1
ll وزیر سیاحت جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ حکومت ریاست میں تین شعبہ جات میں سیاحت کے فروغ کے اقدامات کر رہی ہے ۔ بالو نائک اور دوسروں کے سوال کے جواب میں وزیر سیاحت نے کہا کہ تاریخی مندروں کے شہروں میں سیاحت کے فروغ کو ٹمپل ٹورازم کا نام دیا گیا ہے جبکہ ایکو ٹورازم اور ہیلت ٹورازم کو بھی ترقی دی جائے گی ۔ جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک جامع سیاحتی پالیسی تیار کی جارہی ہے جو 2025 سے 2030 تک نافذ العمل رہے گی۔ پالیسی کی تیاری کا کام آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے قریب ایک نئے زوالوجیکل پارک کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے جو ابھی حکومت کے سیاحتی منصوبہ کے تحت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ زوالوجیکل پارک کے قیام پر حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ، لہذا اراضی کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔ وزیر سیاحت نے کہا کہ اس تجویز پر عمل آوری کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
ll وزیر ا کسائز جوپلی کرشنا راؤ نے شراب کی فروخت میں کمی پر عہدیداروں کو میمو جاری کرنے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ وقفہ سوالات میں بی آر ایس کے کے پی ویویکانند اور دوسروں کے سوال پر وزیر اکسائز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی عہدیدار کو میمو جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2024 تا نومبر 2024 شراب کی فروخت اور ویاٹ سے مجموعی طور پر 20903.13 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ گزشتہ 8 ماہ میں اکسائز ریونیو کے تحت 10295.58 کروڑ جبکہ ویاٹ سے 10607.55 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ اپریل 2024 میں مجموعی طور پر 2594.12 کروڑ کی آمدنی ہوئی جبکہ مئی 2024 میں 2821.48 کروڑ ، جون 2024 میں 2579.78 کروڑ ، جولائی 2024 میں 2680.67 کروڑ ، اگست 2024 میں 2676.94 کروڑ ، ستمبر 2024 میں 2463.72 کروڑ ، اکتوبر 2024 میں 2756.45 کروڑ اور نومبر 2024 میں 2329.13 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں غیر قانونی طور پر شراب کی فروخت کے خلاف جاریہ سال جنوری سے نومبر تک 6915 کیسیس درج کئے گئے اور 6728 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ اکسائز حکام نے 74425 لیٹر غیر قانونی شراب کو ضبط کیا اور 353 گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ۔ وزیر سیاحت کے مطابق شراب کے خلاف شعور بیداری کے تحت ریاست بھر میں 735 پروگرامس منعقد کئے گئے۔
ll وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے بتایا کہ سابق حکومت نے گاندھی ہاسپٹل ، گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج اور ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل نے مصنوعی تولیدی مراکز (IVF) سنٹرس کے قیام کی مساعی کی تھی لیکن یہ مراکز قائم نہیں کئے جاسکے۔ ومشی کرشنا اور دوسروں کے سوال پر وزیر صحت نے بتایا کہ موجودہ کانگریس حکومت نے اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذکورہ تین سرکاری دواخانوں میں مصنوعی تولیدی مراکز قائم کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی اور پیٹلہ برج ہاسپٹل میں یہ مراکز قائم ہوچکے ہیں جن کا افتتاح علی الترتیب 15 اکتوبر کو 9 ڈسمبر کو عمل میں آیا ۔ ورنگل کے ایم جی ایم ہاسپٹل میں عنقریب IVF سنٹر قائم کیا جائے گا۔
ll وزیر تعلیم دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ تعلیمی سال 2024-25 میں 1913 اسکولوں کی نشاندہی کی گئی جہاں صفر داخلے ہوئے ہیں۔ زیرو انرولمنٹ کے اسکولوں میں 1831 پرائمری اسکولس، 49 اپر پرائمری اور 33 ہائی اسکولس ہیں۔ سبیتا اندرا ریڈی اور دوسروں کے سوال پر وزیر تعلیم نے بتایا کہ تمام منڈل ایجوکیشنل آفیسرس اور کامپلکس اسکول ہیڈ ماسٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلہ کیلئے والدین کو ترغیب دیں۔ تعلیمی سال 2024-25 میں 79 گورنمنٹ اسکولس میں 612 طلبہ کے داخلے ہوئے ہیں۔ زیرو انرولمنٹ سے متعلق گورنمنٹ اور مجالس مقامی کے اسکولوں میں حیدرآباد کے 18 اسکولس شامل ہیں جبکہ رنگا ریڈی میں 93 ، وقار آباد 65 ، محبوب نگر 50 ، عادل آباد 11 ، آصف آباد 34 ، منچریال 31 ، نرمل 44 ، نظام آباد 37 ، جگتیال 60 ، پدا پلی 33 ، بھوپال پلی 32 ، ورنگل 133 ، کریم نگر 51 ، کاما ریڈی 48 ، سنگا ریڈی 54 ، سدی پیٹ 85 ، میدک 27 ، جنگاؤں 70 ، بھونگیر 64 ، اور میڑچل ملکاجگیری کے 8 اسکولس شامل ہیں۔1