تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ ، کے ٹی آر اور ڈپٹی چیف منسٹر کے درمیان لفظی جنگ

   

خواتین گروپس کو 57 ہزار کروڑ روپئے بلا سودی قرض دینے کا ثبوت پیش کرنے پر مستعفی ہونے کا چیلنج
حیدرآباد 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ اسمبلی اجلاس کے دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے کو ملی ۔ معاملہ خواتین کے گروپس کو دئیے گئے بلا سودی قرض کے دعوؤں پر شروع ہوا جو بعد میں سیاسی الزام تراشی اور چیلنج تک پہونچ گیا ۔ کے ٹی آر نے اسمبلی میں گورنر کے اظہار تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر 57 ہزار کروڑ روپئے کے سود سے پاک قرضے دینے سے متعلق جی او یا آرڈر کاپی بطور ثبوت پیش کی جائے تو وہ فوری اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اسمبلی اور عوام کو گمراہ کر رہی اور کہا کہ ریاست کی خواتین اس معاملے کو بغور دیکھ رہی ہیں ۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارک نے کے ٹی آر پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے 10 سالہ دور حکومت میں خواتین کو حقیقی معنوں میں با اختیار بنانے کچھ بھی نہیں کیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بی آر ایس ورکنگ صدر کے انداز گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ریاست کی خواتین کی توہین کے مترادف قرار دیا ۔ وزیر خواتین و اطفال سیتااکا نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ویمن گروپس کو قرض کیلئے کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا ۔ جنہیں اب کانگریس کی حکومت ختم کررہی ہے اور آسانیاں پیدا کررہی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت میں خواتین کے گروپس بہتر طریقے سے کام کررہی ہیں ۔ حکومت ان کی مکمل رہبری اور رہنمائی کررہی ہے اور عوام خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس دور میں انہیں فائدہ ہوا ہے ۔ اس بحث کے دوران کے ٹی آر نے کانگریس کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 57 ہزار کروڑ روپئے کے قرض دینے کی بات غلط ہے ۔ کے ٹی آر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے سونیا گاندھی کو کبھی ’ بلی دیوتا ‘ نہیں کہا تھا ۔ اس پر ریاستی وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے ٹی آر حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ تکنیکی طور پر بی آر ایس حکومت نے قرض کی مد میں ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا ۔ اس بحث و تکرار میں ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی بھی شامل ہوگئے ۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت اور کے ٹی آر دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اس لفظی جنگ میں کے ٹی آر نے اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کے وعدوں اور حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کیا ۔ اسمبلی میں جاری اس تکرار نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کردیا ہے جب کہ خواتین کو قرض کا معاملہ ریاست کی سیاست کا اہم موضوع بنتا جارہا ہے ۔۔ 2