تلنگانہ اسمبلی کی عمارت محبوب علی پاشاہ کی 40 ویں سالگرہ کا تحفہ

   

l بہترین فن و تعمیر کا شاہکار l 25 جنوری 1905 کے دن سنگ بنیاد
l 6 ویں نظام کے دور میں تعمیر کا آغاز l یوروپی ۔ ایرانی ۔ مغلائی اور راجستھانی ماہرین کی نگرانی میں تعمیر
حیدرآباد :۔ ہمارا شہر حیدرآباد خوبصورتی اور تاریخی ورثہ کے سبب ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے ۔ 400 سالہ قدیم تاریخ کے حامل اس شہر حیدرآباد کی کہیں اور مثال نہیں ملتی ۔ خوبصورت تاریخی عمارت زیور کی طرح شہر کی تعمیر میں جیسے جڑی گئی ہوں ۔ اس قدیم شہر کی تاریخی اہمیت اور اس کی افادیت کو خود اس کا تاریخی ورثہ اپنے طور پر بیان کرتا ہے جو کسی تعریف کا محتاج نہیں ۔ تاریخی مکہ مسجد ، چارمینار ، چومحلہ پیالیس ، کنگ کوٹھی پیالیس ، فلک نما پیالیس ، قلعہ گولکنڈہ ، سردار محل ، محبوب منشن ، عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ہو یا ہائی کورٹ کی عمارت ، سالار جنگ میوزیم ہو یا پھر قانون ساز کونسل کی عمارت اس طرح شہر کے قرب وجوار میں تاریخی عمارت کو زیور کی طرح جڑ دیا گیا تھا ۔ جو آج بھی اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ تاریخی ورثہ کی منہ بولتی تصاویر ہیں ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سال 2021 کو ہیرٹیج انڈیا فیسٹیول کے طور پر اعلان کیا گیا ۔ اس خصوص میں اسمبلی کی عمارت کے تعلق سے تعارف کروایا جارہا ہے ۔ موجودہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کی عمارت کا سنگ بنیاد 116 سال قبل رکھا گیا تھا ۔ 1905 میں 25 جنوری کے دن اس عمارت کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد اس وقت کے نظام ششم نواب محبوب علی خاں کے دور میں کیا گیا ۔ 1904 میں محبوب علی خاں کی دہلی سے واپسی پر ان کا حیدرآبادی عوام نے پرتپاک خیر مقدم کیا ۔ جو ریاستوں کے سربراہ کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد واپس ہوئے تھے ۔ حیدرآبادی عوام ان کا بے چینی سے انتظار کررہے تھے جو شام باغ عامہ پہونچے اور عوام کو مخاطب کیا اور اس خطاب اور مقام کو یادگار بنانے کے لیے ٹاون ہال کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ۔ ریاست حیدرآباد کی عوام نے چندہ اکھٹا کرتے ہوئے اس عمارت کی تعمیر کی ۔ اس اسمبلی کی عمارت نے 116 سال میں کئی نشیب و فراز دیکھے کئی حکومتیں بدل گئیں کئی وزیر اعلیٰ آئے اور چلے گئے بلکہ ریاستوں کا بھی نقشہ بدل گیا ۔ کئی قائدین کی قسمت آزمائی اور کئی عوامی مسائل اور اپنی آواز کو یہاں بلند کیا ۔ لیکن عمارت کل جس ہال میں تھی آج بھی وہیں اور اسی حال میں موجود ہے ۔ اس وقت شہر میں کافی عمارتیں موجود تھیں لیکن وزراء اور عام شہریوں کے لیے کوئی ایک خاص مقام نہیں تھا ۔ سال 1905 میں محبوب علی خاں کو 40 ویں یوم سالگرہ کا دن تھا ۔ اس دن خوشی کے موقع پر انہوں نے شہریوں کو تحفہ کے طور پر ایک خوبصورت عمارت تعمیر کا آغاز کیا ۔ سماج کے دولت مند افراد کے علاوہ عام شہریوں سے بھی تعاون اپنے طور پر پیش کیا گیا اور اس عمارت کی تعمیر کے لیے ہر طبقہ کے افراد نے اپنا تعاون پیش کیا ۔ اس عمارت کو اس دور میں بہت ہی بلند عمارت کا درجہ حاصل تھا ۔ خصوصی فنکاروں ، گنبدوں کی بناوٹ اور بہترین نقش و نگار سے دیواروں اور چھت کی سجاوٹ اور بناوٹ کو انجام دیا گیا ۔ اس وقت ہی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہ عمارت دیدہ زیب تھی ۔ اور سیاحوں کا مرکز توجہ بن گئی تھی ۔ ایرانی ، مغلائی اور راجستھانی تعمیراتی واستو کے ماہرین کی نگرانی میں اس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ ٹاون ہال کی تعمیر کے لیے راجستھان کے مکرانا علاقہ سے پتھروں کو لایا گیا ۔ دو منزلہ اس عمارت میں 20 کمرے موجود ہیں ۔ گنبدوں کی تعمیر میں خصوصی چونا اور خصوصی مٹی کا استعمال کیا گیا ۔ گنبد اور کمانوں کی بناوٹ مغلائی فن تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ دیواروں کے نقش و نگار مختلف انداز ایرانی اور راجستھانی فن تعمیر کی جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس عمارت کو موسم کے لحاظ سے بھی تعمیر کیا گیا ۔ سرسبز و شاداب ماحول سبزہ زار اور ہوا دار ماحول کو اہمیت دی گئی ۔ موسم سرما میں گرم اور موسم گرما میں خوشگوار ماحول کے لیے ہوا دار عمارت کے لیے فن و تعمیر کو اہمیت دی گئی ۔ اس وقت اس عمارت پر 20 لاکھ کے اخراجات آئے ۔ 1913 میں تعمیر مکمل کرلی گئی ۔ محبوب علی خاں کا 1911 میں انتقال ہونے کے بعد ان کے وارث ساتویں نظام میر عثمان علی خاں نے عمارت کی تعمیر کو مکمل کیا اور اس عمارت کی تکمیل کے بعد محبوب علی خاں کے نام سے موسوم کرتے ہوئے ٹاون ہال کا نام محبوبیہ ٹاون ہال رکھا گیا ۔ 1913 میں عمارت کی تکمیل اور عوام کے استعمال میں آنے کے بعد اس عمارت کی تصویر پر مشتمل 7 ویں نظام نے پوسٹل اسٹامپ کو جاری کیا اور اس کی قیمت اس وقت ایک آنہ تھی ۔۔