پدیاترا کے ذریعہ ورنگل پہونچنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو جھنڈی دِکھاکر روانہ کیا ، 27 اپریل کو جلسہ عام
حیدرآباد۔ 25 اپریل (سیاست نیوز)بی آر ایس کے سینئر قائد اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ تحریک اور سدی پیٹ کا اَٹوٹ رشتہ ہے۔ آج انہوں نے سدی پیٹ میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ ایک پدیاترا کا اہتمام کیا۔ 27 اپریل کو منعقد ہونے والے پارٹی کے سلور جوبلی جلسہ عام کے تعلق سے شعور بیداری پیدا کرنے ایک خطاب میں کہا کہ عوام زیادہ سے زیادہ جلسہ عام میں شریک ہوتے ہوئے پارٹی کے سربراہ کے سی آر کو نئی سیاسی طاقت عطا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دی گئی تھی، کے سی آر نے سدی پیٹ سے ورنگل تک سائیکل یاترا کا اہتمام کیا تھا۔ گاؤں گاؤں گھومتے ہوئے عوام میں تلنگانہ تحریک کیلئے جوش و خروش پیدا کیا تھا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کئی پارٹیاں آتی ہیں اور پھر چلی جاتی ہیں۔ ٹی آر ایس سے بی آر ایس میں تبدیل ہونے والی پارٹی کے سی آر کی قیادت میں ہمیشہ عوام کے درمیان رہے گی، دکھ سکھ میں ساتھ دے گی، مسائل پر جدوجہد کرے گی، ضرورت پڑنے پر قانونی جنگ بھی لڑے گی۔ یہ جذبہ کسی اور پارٹی میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی رہے گی، کیونکہ دونوں قومی جماعتوں کے تلنگانہ قائدین ایک دہلی کے تو دوسرے گجرات کے غلام ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جب بھی انتخابات ہوں گے، ریاست میں بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی۔ کے سی آر عوام کی آواز بن کر گونجتے رہیں گے۔ 14 سال تک تحریک چلاتے ہوئے کے سی آر نے علیحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کیا۔ عوام کے تمام طبقات اور پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جس کے بعد مرکز نے مجبور ہوکر علیحدہ ریاست تلنگانہ کو تشکیل دیا۔ سدی پیٹ سے ورنگل جلسہ عام کو پدیاترا کرنے والے ایک ہزار طلبہ اور نوجوانوں کو ہریش راؤ نے جھنڈی دکھاتے ہوئے روانہ کی۔ اس موقع پر ہریش راؤ نے پہلگام دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والوں کیلئے 2 منٹ کی خاموشی مناتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ 2