ٹی راجیا ، لکشما ریڈی ، ای راجندر کے بعد اب ہریش راؤ پر آزمائش
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قائدین کے لیے وزارت صحت منحوس ثابت ہورہا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے وزارت صحت کا قلمدان سنبھالنے والے قائدین پر کوئی نا کوئی مصیبت آرہی ہے یا عوام کو قربانی دینا پڑرہا ہے ، علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی کابینہ میں ٹی راجیا کو بحیثیت ڈپٹی چیف منسٹر نامزد کرتے ہوئے انہیں وزارت صحت کا قلمدان حوالے کیا ۔ بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہونے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے انہیں کابینہ سے برطرف کردیا ۔ ان کی جگہ ڈاکٹر لکشما ریڈی کو وزارت صحت کا قلمدان سونپ دیا ۔ ٹی آر ایس کو 2018 میں دوسری میعاد کے لیے اقتدار حاصل ہوا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اس مرتبہ ایٹالہ راجندر کو وزیر صحت نامزد کیا تھوڑے دن بعد ان کے خلاف اراضیات پر ناجائز قبضے کے الزامات عائد ہونے کے بعد انہیں بھی وزارت صحت سے ہٹاتے ہوئے ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ کو چیف منسٹر کے سی آر نے وزارت صحت کے قلمدان کی زائد ذمہ داری حوالے کی ۔ پہلی میعاد میں بحیثیت وزیر آبپاشی خدمات انجام دینے والے ہریش راؤ نے کالیشورم پراجکٹ کے علاوہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات فصلوں اور گھر گھر نلوں کے ذریعہ پانی کی سربراہی کے لیے مشین کاکتیہ مشین بھاگیرتا کے علاوہ تالابوں کے احیاء کے لیے جو خدمات انجام دی ہے ، وہ ناقابل فراموش ہے ۔ جس کی ملک گیر سطح پر ستائش ہوئی ہے اور تلنگانہ کو کئی ایوارڈس حاصل ہوئے ہیں ۔ دوسری میعاد کی حکومت میں چیف منسٹر کے سی آر نے ہریش راؤ کو وزیر فینانس بنایا تھا ۔ ایٹالہ راجندر کے ایپوسوڈ کے بعد وزارت صحت کی زائد ذمہ داری قبول کرنے والے ٹی ہریش راؤ نے محکمہ صحت کو اسٹریم لائن کرنے کورونا بحران کے دوران عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کورونا ٹیکہ کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے مرکز سے رابطہ میں رہنے کے لیے جو رول ادا کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ اس کے علاوہ نئے ہاسپٹلس کے قیام ، عمارتوں کی تعمیرات ، نئے میڈیکل کالجس کے قیام ، سرکاری ہاسپٹلس کو جدید آلہ جات اور ادویات کے اسٹاک ، عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور محکمہ صحت میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ کے علاوہ دوسرے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے جو اقدامات کئے ہیں اس کی ستائش ضرور ہورہی ہے ۔ تاہم چند ایسے بھی واقعات حالیہ دنوں میں پیش آئے ہیں جس سے وزارت صحت دوبارہ تنقیدوں کے نشانہ پر آگیا ہے ۔ حیدرآباد کے بعد ورنگل میں سب سے بڑے گورنمنٹ ایم جی ایم ہاسپٹل میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی غفلت اور لاپرواہی دوبارہ منظر عام پر آرہی ہے ۔ چند ماہ قبل ایم جی ایم ہاسپٹل میں وینٹی لیٹر پر زیر علاج ایک مریض کے سرینواس کے ہاتھوں ، پیروں کے علاوہ جسم کے چند حصوں کو چوہوں نے کاٹ لیا تھا ۔ مریض کے جسم سے خون بہہ جانے کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے اس کا سخت نوٹ لیا اور ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کردیا ۔ سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد ایم جی ایم ہاسپٹل میں چوہوں کا راج چل رہا ہے ۔ ہاسپٹل کے جنرل وارڈ میں دوبارہ چوہے ہلچل مچا رہے ہیں جس سے ہاسپٹل میں زیر علاج مریض اور ان کے رشتہ دار ڈر و خوف کا اظہار کررہے ہیں ۔ ہفتہ 10 دن قبل ابراہیم پٹنم میں خاندانی منصوبہ بندی آپریشن کے بعد چار خواتین کی موت واقع ہوگئی 30 خواتین بیمار ہوگئی جس کا نیشنل ویمن کمیشن نے بھی سخت نوٹ لیا اور تلنگانہ حکومت نے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ نمس کے ڈائرکٹر بیمار ہونے پر نمس میں علاج کرانے کے بجائے ایک خانگی کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج کرایا ہے جس کا بھی عوام میں منفی پیغام پہونچا ہے ۔۔ ن