حیدرآباد۔10 اکٹوبر(سیاست نیوز) سرکاری ملازمین کو ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین کی تائید سے روکنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس جے اے سی کے ذمہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے اس بات کا تیقن دیا کہ 21 اکٹوبر کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے خاتمہ کے بعد وہ ملازمین کی تنظیموں کے وفود سے ملاقات کے کرتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں اقدا مات کریں گے۔ ریاستی وزیر سرینواس گوڑ ہمراہ ملاقات کرنے والے وفد کے ذمہ داروں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ملازمین کے گرانی بھتہ میں 3.5 فیصد کے اضافہ کی فائل پر دستخط کرنے کی اطلاع دی ہے ۔ چیف منسٹر نے ریاست میں محتلف محکمہ جات میں خدمات انجام دے رہے ملازمین کو آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے منسلک ہونے اورانہیں ہڑتال سے اظہار یگانگت سے روکنے کیلئے یہ حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی یہ حکمت عملی بڑی تک ناکام ہوچکی ہے کیونکہ گزیٹیڈ اور نان گزیٹیڈ ملازمین کی جن تنظیموں کے قائدین نے چیف منسٹر سے ملاقات کی ہے وہ سرینواس گوڑکی سابقہ یونین سے وابستہ رہے ہیں اور مسٹر سرینواس گوڑ موجودہ حکومت میں وزیر ہیں ۔ تلنگانہ ملازمین کے گرانی بھتہ میں 3.5 فیصد اضافہ کے باضابطہ اعلان نہ کئے جانے کے سلسلہ میں کہا جارہاہے کہ ریاست میں حضور نگر انتخابات کے سلسلہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے اسی لئے چیف منسٹر نے ملاقات کرنے والے ملازمین کے وفد کو اس بات سے واقف کروایا ہے کہ انہوں نے اس فائل پر دستخط کردیئے ہیں اور وہ 21 اکٹوبر کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے خاتمہ کے بعد ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں مثبت اقدامات کو یقینی بنائیں گے ۔