صبح 6 تا10 بجے دن نرمی،میڈیکل اور ضروری خدمات کی اجازت،،آکسیجن اور ادویات کی سربراہی پر توجہ‘اچانک فیصلہ سے عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کیسس میں مسلسل اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آخر کار 10 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں تلنگانہ کابینہ کا اجلاس پرگتی بھون میں منعقد ہوا جس میں چہارشنبہ 12 مئی کی صبح 10 بجے سے 10 روزہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مدت کے دوران روزانہ صبح 6 تا 10 بجے دن عوام کو خرید و فروخت کی اجازت رہے گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل اور دیگر ضروری خدمات کی اجازت رہے گی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کے بعد حکومت نے پہلی مرتبہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف گوشوں سے لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں حکومت پر مسلسل دباؤ تھا باوجود اس کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ غریب اور متوسط طبقات کے معاشی طور پر متاثر ہونے کے اندیشہ کے تحت لاک ڈاؤن سے گریز کررہے تھے۔ گزشتہ ماہ کورونا کیسس میں اچانک اضافہ کے بعد حکومت نے 20 اپریل کو نائیٹ کرفیو کا اعلان کیا تھا۔ 30 اپریل کو نائیٹ کرفیو میں توسیع دی گئی جو 8 مئی تک برقرار رہی۔ کیسس اور اموات کا سلسلہ جاری رہنے پر حکومت نے نائیٹ کرفیو میں 15 مئی تک توسیع کردی تھی۔ نائیٹ کرفیو کے اوقات رات 9 بجے سے دوسرے دن صبح 5 بجے تک تھے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ویک اینڈ کرفیو یا لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا تھا۔ کیسس کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ہائی کورٹ نے حکومت کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا جس کے بعد ریاستی کابینہ نے دس روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینی اجلاس میں پڑوسی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے سبب کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود کیسس کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کئی ریاستوں میں کورونا پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہا۔ اجلاس میں چیف منسٹر نے لاک ڈاؤن کی صورت میں معاشی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کے اندیشہ کو دہرایا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ ایک طرف غریب و متوسط طبقات لاک ڈاؤن سے متاثر ہوں گے تو دوسری طرف سرکاری خزانہ کی آمدنی پر بھی اثر پڑے گا۔ چیف منسٹر نے مائیگرنٹ لیبرس اور روز مرہ محنت مزدوری کرنے والے افراد کیلئے خصوصی اقدامات کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی تاکہ گزشتہ لاک ڈاؤن کی طرح مائیگرنٹ ورکرس کو کوئی دشواری نہ ہو۔ تلنگانہ میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ ڈاکٹرس کی تنظیموں نے بھی حکومت سے لاک ڈاؤن کی سفارش کی۔ ذرائع کے مطابق کابینی اجلاس میں ریاست میں آکسیجن کی سربراہی اور دواخانوں میں بیڈس کی دستیابی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض ریاستوں سے آکسیجن حاصل کی جارہی ہے کیونکہ مرکز سے وافر مقدار میں آکسیجن کی سربراہی نہیں ہے۔ عید سے عین قبل لاک ڈاؤن کے نفاذ کا مسئلہ بھی کابینی اجلاس میں زیر بحث رہا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ نے لاک ڈاؤن کے سختی سے نفاذ اور ادویات کی بلیک مارکٹنگ کے علاوہ خانگی ہاسپٹلس میں زائد چارجس کی وصولی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں علحدہ گائیڈ لائنس جاری کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران تمام دفاتر ، تجارتی ادارے اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بند رہیں گی جبکہ دواخانوں، ڈائیگناسٹک لیبس، فارمیسی کو کھلا رکھنے کی اجازت رہے گی۔ لاک ڈاؤن کیلئے علحدہ پاسیس کی اجرائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ انتہائی ضروری خدمات کے محکمہ جات سے وابستہ ملازمین اپنے شناختی کارڈز کے ذریعہ فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ لاک ڈاؤن نافذ کرنے حکومت کے اچانک فیصلہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔