حیدرآباد۔/19 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں تلنگانہ اسٹیٹ یوتھ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ تعلیم یافتہ اور بیروزگار نوجوانوں کے مسائل کی یکسوی ہوسکے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اسمبلی میں بل کی پیشکشی اور قانون سازی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کمیشن کے قیام سے تلنگانہ کے نوجوانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد میں قدم قدم پر نوجوانوں کی حصہ داری اور قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس کے مظالم اور جھوٹے مقدمات کا نوجوانوں نے سامنا کیا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد نوجوان روزگار کی عدم فراہمی سے مسائل کا شکار ہیں اور نئی ریاست کے بارے میں ان کی توقعات پر پانی پھر چکا ہے۔ نوجوانوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں انہپں روزگار حاصل ہوگا جس طرح کہ کے سی آر نے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر فراہمی روزگار سنتوش کمار گنگوار نے حال ہی میں ملک میں یوتھ کمیشن کے قیام کی ضرورت قائم کی تھی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک میں ملازمتوں اور روزگار کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں نوجوانوں کو دھوکہ دیا گیا۔ نوجوانوں سے جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری محکمہ جات میں تقریباً ڈھائی لاکھ جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 31000 پوسٹ اور ایس آئی کانسٹبل کے 28 ہزار جائیدادوں پر بھرتی کی گئی۔2018 انتخابات سے قبل کے سی آر نے اعتراف کیا تھا کہ نوجوان اُن سے ناراض ہیں اس لئے دوبارہ اقتدار پر آنے پر ماہانہ 3016 روپئے بیروزگاری بھتہ کے طور پر دیئے جائیں گے۔ چھ ماہ گذرنے کے باوجود اس اسکیم کے اصول و ضوابط تیار نہیں کئے گئے۔ ریاست میں فی الوقت 20 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں اور ہر سال 1.25 لاکھ طلبہ گریجویشن کی تکمیل کرتے ہوئے روزگار کے منتظر ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں 14 لاکھ بے روزگار نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار، جموں کشمیر، کیرالا اور اوڈیشہ کے بعد بیروزگاری کا مسئلہ تلنگانہ میں شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ بیروزگاری کا خاتمہ اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا تلنگانہ اسٹیٹ یوتھ کمیشن کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کی امیدوں اور توقعات کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔