تلنگانہ میں انتخابی بدعنوانیوں اور پولیس عہدیداروں کے تبادلوں کیخلاف الیکشن کمیشن سے نمائندگی

   

کانگریس کے اعلیٰ سطحی وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات، حکومت کے حامی عہدیداروں کو الیکشن ڈیوٹی کی شکایت

حیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین پر مشتمل وفد نے آج نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ملاقات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے 16 اکٹوبر کو چھتیس گڑھ میں دیئے گئے بیانات پر شکایت درج کی ہے۔ رکن راجیہ سبھا جئے رام رمیش، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین وفد میں شامل تھے۔ بعد میں جئے رام رمیش نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر تین الیکشن کمشنرس کی موجودگی میں 8 شکایات پیش کی گئی ہیں۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے چھتیس گڑھ میں بیان دیتے ہوئے آئی پی سی کی دفعہ 1860 اور قانون عوامی نمائندگان 1951 کی خلاف ورزی کی ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو انتخابی مہم کو آلودہ کرنے سے روکنے کیلئے الیکشن کمیشن کو اقدامات کرنے چاہیئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن مداخلت کرے گا۔ جئے رام رمیش نے چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات پیش کی ہیں۔ کانگریس قائدین نے چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا شرما کی جانب سے 18 اکٹوبر کو چھتیس گڑھ میں کی گئی تقریر کے خلاف شکایت کی ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی قائدین اپنی تقاریر کے ذریعہ سماج میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کے خلاف مشتعل کررہے ہیں۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ مرکزی حکومت سیول سرونٹس اور فوجی جوانوں کے رول کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کانگریس قائدین نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی امیدوار گووند سنگھ راجپوت کو نااہل قرار دینے کی اپیل کی۔ راجپوت نے برسر عام یہ دعویٰ کیا کہ 25 لاکھ روپئے ان پولنگ بوتھس کے انچارجس کے حوالے کئے گئے جہاں بی جے پی کے حق میں زائد ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔ گووند سنگھ راجپوت کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تلنگانہ سے متعلق شکایتوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کے برسراقتدار آنے کے بعد سے تلنگانہ میں الیکشن انتہائی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا شکار ہوچکا ہے۔ کانگریس قائدین نے بی آر ایس حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اسکیمات کے فوائد کی تقسیم کے ذریعہ رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی شکایت کی۔ پارٹی نے کہا کہ پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بعد سے رائے دہی کی تکمیل تک اسکیمات کے فوائد کی تقسیم کو روک دیا جائے۔ تلنگانہ میں پولیس عہدیداروں کے غیرقانونی تبادلوں اور تقررات کی شکایت کی گئی اور کہا گیا کہ ڈھائی سال کی تکمیل نہ کرنے والے عہدیداروں کا بھی تبادلہ کردیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن کی شرائط میں ڈھائی سال کی تکمیل ضروری ہے۔ کانگریس قائدین نے تلنگانہ میں مخصوص عہدیداروں کو الیکشن ڈیوٹی الاٹ کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ مذکورہ عہدیدار کھلے عام مخصوص سیاسی پارٹی کی مدد کررہے ہیں۔