تلنگانہ میں بلدیاتی جوڑ توڑ سے سیاسی پس منظر تبدیل

   

میئر اور چیر پرسن کے انتخاب کیلئے کئی مقامات پر کانگریس ، بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کی ایک دوسرے کو تائید
حیدرآباد ۔16 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں بلدیہ کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اب کافی حد تک واضح ہوچکی ہے ۔ تاہم اس عمل میں ریاست کے سیاسی منظر نامہ میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔ میئر اور چیرمین کے عہدوں کیلئے مختلف جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ اور غیر متوقع اتحاد نے عوام اور سیاسی مبصرین کو حیران کردیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جن جماعتوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی اور خود کو ایک دوسرے کا سب سے بڑا مخالف قرار دیا، وہی اب اقتدار کیلئے ایک دوسرے کا سہارا بنتی جارہی ہے۔ کانگریس ، بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس جیسی بڑی جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی ایک دوسرے کو بی ٹیم قرار دینے کی بھی کوشش کی تھی۔ انہی جماعتوں نے مختلف بلدیاتی اداروں میں حالات کے مطابق ایک دوسرے کی حمایت کی۔ کاما ریڈی میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان اتحاد دیکھنے میں آیا جبکہ امر چنتا میں بی آر ایس اور بی جے پی نے مل کر اقتدار حاصل کیا۔ آلیر میں بی جے پی اور کانگریس نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ نظام آباد نے مجلس اور بی آر ایس نے کانگریس کی حمایت کی۔ یہ صورتحال اس لئے بھی اہم ہے کہ ماضی میں انہی جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کئے گئے اور پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسمبلی انتخابات کے دوران بعض حلقوں میں بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کی باتیں زیر بحث رہیں جنہیں دونوں جماعتوں کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔ تاہم موجودہ بلدیاتی اتحاد میں ایک بار پھر سیاسی مساوات کو بدل کر رکھ دیا ہے اور بی ٹیم کے سیاست پر سوالات کھڑے کردیئے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی سطح پر اتحاد وقتی ضرورت کے تحت بنتے ہیں لیکن اس کے اثرات ریاست کی سیاست تک پہنچتے ہیں۔ عوام کے لئے اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ اشتراک صرف اقتدار کے حصول تک محدود رہیں گے یا مستقبل میں وسیع تر سیاسی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ تعلقات محض بلدیاتی اداروں تک محدود رہتے ہیں یا تلنگانہ کی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔2