پولیس نظم و نسق پر وزیر داخلہ کا کنٹرول نہیں، پردیش کانگریس ترجمان نظام الدین کا الزام
حیدرآباد۔/25 جون، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیر داخلہ محمد محمود علی سے استعفی کی مانگ کی۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جرائم پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن دھاڑے قتل کے واقعات اور خواتین کے خلاف مظالم کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے کارپوریٹ طرز کے پولیس اسٹیشن تعمیر کئے اور پولیس عہدیداروں کو نئی گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور فرینڈلی پولیسنگ کے نتیجہ میں جرائم پر قابو پانے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ 22 جون کو حیدرآباد میں 4 مختلف واقعات میں 7 افراد کے قتل کی وارداتیں پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محمد محمود علی کی جانب سے پولیس اسٹیشنوں کے افتتاح کے دوران جرائم کے واقعات میں اضافہ افسوسناک ہے۔ وزیر داخلہ تلنگانہ پولیس کو ملک میں نمبر ون پولیس قرار دیتے ہیں اور فرینڈلی پولیسنگ کی ستائش کی جاتی ہے۔ نظام الدین نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران ریاست کے مختلف اضلاع میں جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی واقعات میں بی آر ایس کے قائدین ملوث پائے گئے خاص طور پر بودھن میں بی آر ایس کے کونسلر کے بھائی عصمت ریزی میں ملوث پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے اور وزیر داخلہ کا پولیس نظم و نسق پر کوئی کنٹرول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ملک میں سب سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کے باوجود جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ر