تلنگانہ کو نظرانداز کرنے کا الزام مسترد، گزشتہ سال کے مقابلہ 25 فیصد بجٹ کا اضافہ
حیدرآباد۔/20 فروری، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیش کردہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ میں ریلوے ترقی کیلئے 3048 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کشن ریڈی نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو نظرانداز کرنے سے متعلق ٹی آر ایس الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 2021-22 میں تلنگانہ میں ریلوے پراجکٹس کیلئے 2420 کروڑ مختص کئے گئے تھے جبکہ 2022-23 میں 25 فیصد اضافہ کے ساتھ 3048 کروڑ کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2014-20 کے دوران ریلوے بجٹ میں تلنگانہ کیلئے جو منظوریاں دی گئی تھیں ان سے 3 گنا زیادہ 2022-23 میں منظور کیا گیا ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں 1300 کیلو میٹر سے زائد ریلوے کام سُست رفتاری کا شکار ہیں۔ ریاستی حکومت کی عدم دلچسپی سے کاموں میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریلوے پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل میں تعاون کرے ۔ کشن ریڈی نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک بھر میں ریلویز کو عصری بنانے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں نئے ریلوے لائنس کی تعمیر، ڈبل لائن بچھانے کا کام و ضرورت کے مطابق بعض علاقوں میں 3 لائنوں کو بچھانے کا کام مرکز نے منظورکیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کئی مقامات پر روڈ اوور بریجس کی منظوری دی گئی ۔ قاضی پیٹ تا وجئے واڑہ ریلوے لائن کے تحت 220 کیلو میٹر، قاضی پیٹ تا بلہار شاہ 201 کیلو میٹر، منگور تا راما گنڈم 200 کیلو میٹر، منوہرآباد تا کتہ پلی 151 کیلو میٹر، کرشنا تا وقارآباد 145 کیلو میٹر ، بودھن تا لاتور 134 کیلو میٹر، کونڈہ پلی تا کتہ گوڑم 82 کیلو میٹر، منیرآباد تا محبوب نگر 66 کیلو میٹر اور کریم نگر تا حسن پرتی 62 کیلو میٹر ریلوے لائن کے کام منظور کئے گئے ہیں۔ر