جنوری میں رقم ہڑپ، فبروری میں چیک کی اجرائی، پولیس میں شکایت کے بعد تحقیقات کا آغاز
حیدرآباد۔ شادی مبارک اسکیم میں دھاندلیوں کا ایک اور واقعہ منظر عام پر آیا۔ تاہم اس مرتبہ استفادہ کنندہ کو چیک بھی حوالہ کردیا لیکن اس چیک کو چینائی میں ڈرا کرلیا گیا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ چندرائن گٹہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو چیک 22 فبروری کو حوالے کیا گیا لیکن جنوری کے مہینہ ہی میں چینائی میں ڈرا کرلیا گیا۔ اس بات کا علم اس استفادہ کنندہ کو اس وقت ہوا جب اس نے شادی مبارک کے چیک کو ڈرا کرنے کیلئے بینک لے گیا۔ بینک عہدیداروں نے اس شخص کو بتایا کہ چیک جنوری کے مہینہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا چینائی کی شاخ میں ڈرا کرلیا گیا ۔لاک ڈاؤن کے سبب اس مسئلہ کو پولیس سے رجوع نہیں کیا گیا تھا ۔ سی سی ایس سائبر کرائم کے انسپکٹر جی وینکٹ رامی ریڈی نے بتایا کہ انورنامی شخص نے سائبر کرائم سے رجوع ہوکر شکایت کی۔انسپکٹر نے بتایا کہ انور نیوز پیپر ہاکر ہے جو پرانے شہر کے علاقہ چندرائن گٹہ کے ساکن ہیں ۔ انور نے جنوری میں اپنی بیٹی کی شادی کی اور شادی مبارک اسکیم کے تحت درخواست داخل کی ۔ اس شخص کو 22 فبروری کو بنڈلہ گوڑہ کے ریونیو حکام نے شادی مبارک کا چیک حوالے کیا جو جنوری میں چینائی میں ڈرا کرلیا گیا۔ سائبر کرائم پولیس کے انسپکٹر نے بتایا کہ اس کیس کی ہر زاویہ سے جانچ جاری ہے اور سابق بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کا بھی اس تحقیقات میں احاطہ کیا جائے گا۔