تلنگانہ میں عمر رسیدہ اشخاص کے حقوق کے بارے میں بیداری کا فقدان : لاسی رپورٹ

   


حیدرآباد :۔ عمر رسیدہ اشخاص کے لیے راحت رسانی کے قانونی اقدامات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قوانین کے بارے میں بیداری کے فقدان کے باعث ثمر آور ثابت نہیں ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ میں 60 سال اور اس سے زائد عمر کے صرف 5.1% فیصد اشخاص ہی مینٹننس اینڈ ویلفیر آف پیرنٹس اینڈ سینئیر سٹیزنس ایکٹ سے واقف ہیں ۔ لاسی ویو 1 رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا جسے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن سائنسیس (IIPS) کی جانب سے منظر عام پر لایا گیا ۔ اس قانون میں ان وجوہات کی تفصیلات ہیں جس میں سینئیر سٹیزنس کے مفادات کے تحفظ کے لیے جائیداد کی منتقلی کو کالعدم کیا جاسکتا ہے ، ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی خدمات ، بچوں سے ماہانہ الاونس وغیرہ ۔ یہ اسٹیڈی ہندوستان میں عمر رسیدہ اشخاص کی بڑھتی ہوئی آبادی کی صحت ، معاشی اور سماجی بہتری کے معاملہ میں ایک انوسٹیگیشن ہے ۔ اس میں ملک گیر ڈیٹا کے ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے فیاکٹ ، شیٹس بھی جاری کئے گئے ۔ لاسی ، آئی آئی پی ایس ، ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلت اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے درمیان ایک شراکت ہے ۔ اس رپورٹ میں ہیلت انشورنس رکھنے والے ، تنہا یا شریک حیات بچوں کے ساتھ رہنے والے عمر رسیدہ اشخاص کے فیصد کی تفصیلات ، گورنمنٹ پنشن اسکیمس کے بارے میں بیداری اور دیگر باتوں کی تفصیلات بھی ہیں ۔ تلنگانہ میں 2475 افراد سے انٹرویو لیا گیا یہ فیلڈ ورک جولائی تا نومبر 2018 کیا گیا ۔ تلنگانہ فیاکٹ ۔ شیٹ کے مطابق ان میں 10.5% تنہا رہتے ہیں ۔ عمر رسیدہ والدین کا خیال رکھنے کے معاملہ میں ایک مفروضہ یہ ہے کہ وہ مالی بوجھ ہوسکتے ہیں لیکن اسٹیڈی میں معلوم ہوا کہ 2.4% سینئیر سٹیزنس نے مالی مدد فراہم کی ہے ۔ تقریبا 39% ہیلت انشورنس کوریج رکھتے ہیں اور اس سروے سے بارہ ماہ قبل 8% ان پیشنٹ کے طور پر دواخانہ میں شریک ہوئے تھے اور ہاسپٹل اخراجات 27,319 روپئے تھے ۔ اس اسٹیڈی کے اصل انوسٹیگیٹر آئی آئی پی ایس پروفیسر ٹی وی شیکھر نے کہا کہ چونکہ ہر ریاست اور مرکزی زیر انتظام علاقہ کے لیے ڈیٹا دستیاب ہے اسے فائن ۔ ٹیون پروگرام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ فرض کیجئے کہ کہیں اولڈ ایج پنشن کے بارے میں بیداری کم ہو تو آپ وہاں کچھ کرسکتے ہیں ‘ ۔۔