حکومت کی جانب سے کمپنیوں کو اراضی اور دیگر سہولتوں کی فراہمی
حیدرآباد۔3ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست میں جلد ہی الکٹرانک شعبہ میں 3لاکھ ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی ۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں الکٹرانک اشیاء سازی کے لئے فراہم کی جانے والی جگہ اور کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں سے آئندہ چند برسوں کے دوران 3لاکھ نوجوانوں کو اس شعبہ میں ملازمت کے حصول کے امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے الکٹرانک اشیاء سازی کے لئے فراہم کی جانے والی سہولتوں کے سلسلہ میں جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان اقدامات سے کمپنیوں کے ذمہ داران مطمئن ہیں اور حکومت کی جانب سے کمپنیوں کو درکار سہولتوں کے متعلق دریافت کرتے ہوئے انہیں سہولت فراہم کی جا رہی ہے جس کے سبب وہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کامظاہرہ کر رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے 50 ایکڑ پر محیط الکٹرانک اشیاء سازی پر مشتمل صنعتی پارک کے قیام کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان اقدامات کے ذریعہ ہی ریاست کے قابل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے علاوہ دیگر کو ملازمتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے چین کی کمپنیوں کو اطمینان بخش ماحول کی فراہمی کے نتیجہ میں 100ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے اور انہیں امید ہے کہ ریاستی حکومت کی طرح مرکزی حکومت کی جانب سے ان منصوبوں پر عمل آوری کے ذریعہ ملک میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔انہوں نے دعوی کیا کہ حیدرآباد میں آئی ٹی شعبہ کی ترقی تیز ہوچکی ہے اور اس تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلد ہی بنگلوروکو حیدرآباد کی انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ کی جانب سے پیچھے کرتے ہوئے بنگلورو پر سبقت حاصل کرلیں گے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ کئی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے حیدرآباد میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اور حکومت کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست میں سرکردہ بیرونی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کیلئے انہیں درکار سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے بین الاقوامی کمپنیاں مطمئن ہیں اور وہ تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔