کابینہ میں 3 مسلمانوں کو نمائندگی،4 مسلم امیدواروں کو مہم میں سبقت، ریونت ریڈی سے انصاف کی امید
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) کیا تلنگانہ میں مسلمانوں کے اچھے دن واپس آئیں گے؟ مسلمان ہمیشہ حکومت اور قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی نہ ملنے کی شکایت کرتے رہے ہیں اور یہ شکایت بیجا نہیں بلکہ بجا ہے۔ گذشتہ کئی دہوں میں متحدہ آندھرا پردیش اور پھر گذشتہ 10 برسوں میں علحدہ تلنگانہ ریاست میں بہت کم مواقع ایسے رہے جنہیں مسلمانوں کے اچھے دن کہا جاسکتا ہے۔ حکومت اورقانون ساز اداروں چاہے وہ اسمبلی، کونسل، لوک سبھا یا راجیہ سبھا کیوں نہ ہوں برسر اقتدار سیاسی پارٹیوں نے بہت کم اس بات پر توجہ دی کہ مسلمانوں کو مذکورہ اداروں یا ایوانوں میں نمائندگی کا موقع دیا جائے۔ مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت کس کو نہیں ہے؟ سیکولر پارٹیاں تو مسلم ووٹ کی دعویدار ہیں لیکن بی جے پی نے بھی پسماندہ اقلیت کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں سے ہمدردی کی کوشش کی ہے۔ مسلم ووٹ حاصل ہونے پر اگر کسی چیف منسٹر نے تائید کا قرض چکانے یا تائید کا صلہ دینے کی کوشش کی ہو تو وہ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے اور حکومت میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیا۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کی مہم عروج پر ہے کانگریس اور بی آر ایس مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ گذشتہ 10 برسوں تک بی آر ایس کو اقتدار کا موقع فراہم کرنے کے بعد مسلمانوں کا رجحان اس مرتبہ تبدیلی کے حق میں دکھائی دے رہا ہے۔ اگر مسلم ووٹوں کی تائید سے کانگریس اقتدار حاصل کرتی ہے تو کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی؟۔ عام مسلمانوں اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال گشت کررہا ہے کہ کیا ریونت ریڈی متحدہ آندھرا پردیش کے آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی تقلید کریں گے؟۔ راج شیکھر ریڈی وزارت میں 3 مسلم وزراء تھے جن میں محمد علی شبیر، فرید الدین اور احمد اللہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ کونسل میں دو اور راجیہ سبھا میں ایک مسلمان کو نمائندگی دی گئی تھی۔ ایم اے خاں کو راج شیکھر ریڈی نے دو میعاد کیلئے راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا تھا۔ جمعیۃ العلماء کے ریاستی صدر حافظ پیر شبیر احمد کو قانون ساز کونسل میں نمائندگی دی گئی تھی۔ اب جبکہ کانگریس کی اقتدار میں واپسی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں لہذا کانگریس کے اقلیتی قائدین اور کیڈر میں امید جاگی ہے کہ کانگریس کا جو بھی چیف منسٹر ہوگا وہ مسلمانوں کے ساتھ کابینہ اور قانون ساز اداروں میں نمائندگی کے ذریعہ انصاف کرے گا۔ یوں تو کانگریس کے چیف منسٹر کا فیصلہ اعلیٰ کمان کرتا ہے لیکن ریونت ریڈی کے چیف منسٹر بنائے جانے کے امکانات قوی ہیں۔ ریونت ریڈی جو ہمیشہ مسلمانوں کے حق میں اظہار خیال کرتے ہیں اور انہوں نے ایک مسلم قائد محمد علی شبیر کو شکست سے بچانے کیلئے خود کاماریڈی سے مقابلہ کا فیصلہ کیا اور محمد علی شبیر کو نظام آباد ( اربن ) حلقہ سے امیدوار بنایا جو کانگریس کا روایتی گڑھ رہا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے جو اقلیتی امیدوار بہتر موقف میں دکھائی دے رہے ہیں ان میں محمد علی شبیر، محمد اظہر الدین اور فیروز خاں شامل ہیں۔ ملک پیٹ سے شیخ اکبر بھی مجلس کو چیلنج دے رہے ہیں۔ کانگریس برسراقتدار آنے پر کیا 3 مسلمانوں کو کابینہ میں نمائندگی ملے گی؟ اس سوال پر سیاسی مبصرین کی رائے مختلف ہے۔119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں ریاستی کابینہ صرف 18 ارکان پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ ایسے میں تین مسلمانوں کو شامل کرنا دیگر طبقات کیلئے اعتراض کا سبب بن سکتا ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں مسلمانوں کے مسیحا کے طور پر خود کو پیش کرنے والے کے سی آر نے کابینہ میں صرف ایک نمائندگی پر اکتفاء کیا اور ہمیشہ یہی بہانہ بنایا گیاکہ وزارت میں زائد وزراء کی شمولیت دستور کے اعتبار سے ممکن نہیں ہے۔ کانگریس کے ذرائع کے مطابق اگر راج شیکھر ریڈی کی تاریخ کو دہرایا نہیں گیا تب بھی قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا میں مسلم نمائندگی یقینی ہے اور حکومت کے اہم عہدوں پر مسلمانوں کو نمائندگی ضرور حاصل ہوگی۔