تلنگانہ میں مسلم اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ کو خطرہ

   

مراٹھا تحفظات پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، تلنگانہ کے سرکاری عہدیدار فکر مند
حیدرآباد۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مہاراشٹرا کے مراٹھا تحفظات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق فیصلہ کے بعد تلنگانہ میں مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کو تحفظات میں اضافہ کی کوششوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے مراٹھا طبقہ کو فراہم کئے گئے اضافی تحفظات کو کالعدم قرار دیا اور واضح کردیا کہ مجموعی تحفظات کی حد 50 فیصد سے تجاوز نہ کی جائے۔ عدالت نے اندرا ساہنی کیس پر نظرثانی کی اپیل کو بھی مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ حکومت کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ کی مساعی کو نقصان ہوگا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے اپریل 2017 کو اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مسلم تحفظات کو موجودہ 4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 6.5 فیصد سے بڑھا کر 9.8 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ قرارداد منظوری کیلئے مرکزی حکومت کو روانہ کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے مسلم تحفظات میں اضافہ کی فائیل کو مختلف اعتراضات کے ساتھ واپس کردیا ہے جبکہ ایس ٹی تحفظات کی فائیل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ مرکزی حکومت کا ماننا ہے کہ ملک میں مجموعی تحفظات سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 50 فیصد سے تجاوز نہ کرنے پائیں۔ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا اختیار مرکزی حکومت کو ہے جو دستوری ترمیم کے ذریعہ 50 فیصد کی حد میں اضافہ کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا ریاستوں کو اختیار نہیں ہے۔ ریاستی حکومتیں مرکز سے مانگ کررہی ہیں کہ آبادی میں پسماندہ طبقات کے تناسب کے اعتبار سے تحفظات طئے کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو حال ہی میں مکتوب روانہ کرتے ہوئے 50فیصد کی حد پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وسیع تر بنچ اندرا ساہنی مقدمہ کے فیصلہ کا جائزہ لیتے ہوئے 50 فیصد کی حد میں اضافہ کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ تحفظات کے سلسلہ میں بعض ریاستوں نے غیر معمولی حالات کا سہارا لیکر تحفظات کے فیصد کو 50 فیصد سے زائد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں میں مجموعی تحفظات 50 فیصد سے زائد ہیں۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے۔