2002 اور 2026 کی ووٹر فہرستوں کا موازنہ، 1.20 کروڑ اضافی ووٹرس کی جانچ ہوگی
حیدرآباد۔ 25 فروری (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی تیاری اور خصوصی جامع نظرثانی SIR کے عمل کو تیز کردیا گیا ہے۔ سنٹرل الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اپریل سے ریاست میں SIR کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس تناظر میں اگر مناسب ثبوت پیش نہ کئے گئے تو ووٹ بنانے کے لئے سخت قوانین نافذ کئے جائیں گے۔ حکام پہلے ہی پیشگی انتظامات میں تیزی پیدا کرتے ہوئے ووٹرس کی تفصیلات جمع کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق 2002 میں ریاست میں 2.20 کروڑ ووٹرس تھے جبکہ تازہ ترین فہرست میں یہ تعداد بڑھ کر 3.40 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی 1.20 کروڑ رائے دہندوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اس پس منظر میں 2002 کی فہرست رائے دہندگان کا 2026 کی تازہ ترین فہرست سے موازنہ کیا جائے گا اور فہرست میں تبدیلی لائی جائے گی۔ بوتھ لیول آفیسر (BLOS) اور بوتھ لیول ایجنٹس (BLAS) اس عمل میں کلیدی رول ادا کریں گے اور ان کے ذریعہ ووٹر لسٹ میاپنگ جاری رہے گی۔ سنٹرل الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد ریاستی انتخابی حکام نے تیاریوں کو مزید تیز کردیا ہے۔ اس بات کی جانچ کی جارہی ہے کہ پرانے رائے دہندے اب بھی موجود ہیں یا نہیں۔ وہ اسی حلقے میں ہیں یا کسی دوسرے ضلع یا ریاست کو منتقل ہوچکے ہیں۔ یا پھر ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق اب تک تقریباً 2 کروڑ رائے دہندوں کی میاپنگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ مزید 1.4 کروڑ ووٹرس کی میاپنگ باقی ہے۔ ڈسٹرکٹ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس (AERs) کو آن لائن تربیت دی جارہی ہے تاکہ ووٹوں کی تیاری، اپ ڈیٹ اور دیکھ بھال کے عمل کو موثر طریقہ سے انجام دے سکیں۔ حیدرآباد میں لاکھوں مرحومین کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دوہری اندراج رکھنے والوں کو ایک مقام منتخب کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں میں ووٹ رکھنے والوں سے بھی آپشن طلب کئے جائیں گے۔ ووٹ کا حق برقرار رکھنے کے لئے آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، خاندانی تفصیلات اور شہریت سے متعلق دستاویزات پیش کرنا لازمی ہوگا۔تلنگانہ حکومت اس کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے۔
2