تلنگانہ میں چوتھا ضمنی چناؤ ، ٹی آر ایس کو 2-1 سے سبقت

   

بی جے پی اسکور برابری کی دوڑ میں، کانگریس کا کھاتہ ابھی تک نہیں کھلا

حیدرآباد۔/24اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کے سی آر کے ڈسمبر 2018 میں دوسری مرتبہ برسراقتدار آنے کے بعد ریاست کو چوتھے ضمنی چناؤ کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں ابھی تک اسمبلی کے 3 ضمنی چناؤ منعقد ہوئے جن میں ٹی آر ایس کو2-1 سے سبقت حاصل ہے۔ بی جے پی نے ایک چناؤ جیتا جبکہ کانگریس پارٹی کا کھاتہ ابھی تک نہیں کھلا۔ حضورآباد ضمنی چناؤ کیلئے 30 اکٹوبر کو رائے دہی مقرر ہے اور یہ چناؤ برسراقتدار ٹی آر ایس کیلئے اب تک کا سب سے زیادہ چیلنج بھرا ہے جس میں اسے بی جے پی سے کانٹے کی ٹکر ہے۔ عام طور پر کسی بھی الیکشن سے چند دن قبل سروے کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں یہ اندازہ کرلیتی ہیں کہ نتائج کیا ہوں گے لیکن حضورآباد میں نتیجہ کس پارٹی کے حق میں ہوگا اس بارے میں کوئی بھی ایجنسی فیصلہ کن سروے پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیلئے یہ الیکشن وقار کا مسئلہ بن چکا ہے جس طرح اسمبلی کے عام انتخابات میں چیف منسٹر متفکر اور مصروف دکھائی دیتے تھے اسی طرح ایک اسمبلی حلقہ کیلئے ان کی مصروفیت اور دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ اب تک کے تین ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو حضور نگر اور ناگرجنا ساگر میں ضمانت بھی نہیں بچ سکی لیکن دوباک میں اسے ٹی آر ایس کے مقابلہ کامیابی حاصل ہوئی۔ حضور نگر میں اتم کمار ریڈی کے پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونے کے بعد اسمبلی سے استعفی کے نتیجہ میں ضمنی چناؤ ہوا تھا جس میں ٹی آر ایس کو 43 ہزار کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسرا ضمنی چناؤ نومبر 2020 میں دوباک میں ہوا جس میں بی جے پی نے حیرت انگیز طور پر 1000 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ تیسرا ضمنی چناؤ مئی 2021 میں ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کا ہوا جہاں ٹی آر ایس رکن اسمبلی این نرسمہیا کے انتقال کے سبب نشست خالی ہوئی تھی۔ اس چناؤ میں کانگریس نے سینئر لیڈر جانا ریڈی کو میدان میں اُتارا لیکن کامیابی ٹی آر ایس کے حصہ میں آئی۔ پہلے چناؤ میں ٹی آر ایس نے کانگریس سے نشست چھین لی جبکہ دوسرے چناؤ میں بی جے پی نے ٹی آر ایس کی نشست پر قبضہ کرلیا۔ تیسرے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو اپنی نشست واپس لینے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ حضورآباد جس کی انتخابی مہم عروج پر ہے وہاں اگرچہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے علاوہ کانگریس نے اپنا امیدوار میدان میں اُتارا ہے لیکن اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس کیلئے حضورآباد میں ضمانت کو بچالینا ہی بڑی کامیابی رہے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ حضورآباد میں جہاں ٹی آر ایس سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے راجندر نے بی جے پی کا دامن تھام لیا کیا وہ اپنی نشست کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے یا پھر ٹی آر ایس ان سے یہ نشست چھین لے گی۔ برسراقتدار پارٹی کی جانب سے اب تک جو بھی سروے کرائے گئے ہیں ان میں ٹی آر ایس کیلئے واضح اکثریت کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ حضورآباد میں کم اکثریت ہی سہی لیکن کامیابی ٹی آر ایس کی ہوگی۔ر