موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے متاثرین کی ریالی، مکانات کے تحفظ کا تیقن
حیدرآباد۔ یکم؍ مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے متاثرین کو بھروسہ دلایا کہ ان کی پارٹی انصاف دلانے ہر ممکن جدوجہد کریگی۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے آج ریالی منظم کی گئی جس میں کے ٹی آر و رکن اسمبلی سبیتا اندرا ریڈی اور دیگر بی آر ایس قائدین نے شرکت کی ۔ کے ٹی آر نے مدھو پاریہ ریڈی اپارٹمنٹ کے مکینوں سے ملاقات کی جنہیں حکام نے تخلیہ کی نوٹس دی ہے۔ مقامی افراد اور بالخصوص خواتین اور بچوں نے کے ٹی آر کو مسائل سے واقف کرایا اور کہا کہ مکینوں کو بے دخل کئے بغیر پراجکٹ کی تکمیل کی جانی چاہئے۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس بلڈوزر راج چل رہا ہے۔ کانگریس حکومت میں کئی غریبوں کے مکانات کو منہدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کے انہدام کے علاوہ حکومت اراضیات کی فروخت کے ذریعہ ریئل اسٹیٹ بروکر کا رول ادا کررہی ہے۔ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر حکومت کے اقدامات کسی اسکام سے کم نہیں۔ بی آر ایس ‘متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ دو برسوں تک انہدام کے خلاف جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دوبارہ اقتدار پر آنے کے بعد بازآبادکاری اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت سے بچاؤ کیلئے دو سال باقی ہیں اور اس کے بعد بی آر ایس حکومت ہوگی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر کروڑہا روپے کے اسکام کا منصوبہ ہے۔ مختلف علاقوں کے متاثرین کی جانب سے تین کیلو میٹر طویل پدیاترا کا اہتمام کیا گیا جس میں کے ٹی آر نے شرکت کی۔ راجندر نگر میں کئی اپارٹمنٹس اور مکانات کو حکام نے نوٹس جاری کی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ عوام کو صرف 2 برسوں تک انتظار کرنا ہوگا اس کے بعد بی آر ایس برسر اقتدار آئے گی۔ بی آر ایس قائدین اور کارکن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں ساتھ ہونگے ۔ 1