تلنگانہ میں کوئی بھی امتحان محفوظ نہیں: محمد علی شبیر

   

چیف منسٹر پر تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کا الزام، امتحانی پرچہ جات کے افشاء کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ

حیدرآباد۔/7 مئی، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کی کے سی آر حکومت نے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے اور کوئی بھی سرکاری امتحان افشاء کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ محمد علی شبیر کاماریڈی کے دورہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں تلنگانہ امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ایس ایس سی، اوپن ایس ایس سی، انٹر میڈیٹ، گروپ I اور دیگر امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء عمل میں آیا جس کے نتیجہ میں طلباء اور نوجوانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اوپن ایس ایس سی امتحانات کے دوران کاماریڈی ضلع میں بڑے پیمانے پر نقل نویسی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نقل نویسی کی اجازت دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی کے امتحانی مرکز پر یہ واقعہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور سیٹنگ اسکواڈ کی ملی بھگت کے ذریعہ پیش آیا ہے اور لاکھوں روپئے کی معاملت ہوئی ہے۔ انہوں نے محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کے ازالہ کیلئے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض کرپٹ ٹیچرس نظام تعلیم کو نقصان پہنچارہے ہیں اور نقل نویسی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر پر تنقید کی اور کہا کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہوئے پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں دھاندلیاں کی گئیں۔ کانگریس پارٹی اس معاملہ کی ہائی کورٹ کے سیٹنگ جج یا سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین پبلک سرویس کمیشن اور ارکان کو فوری برطرف کیا جائے۔ محمد علی شبیر نے ماچا ریڈی موضع کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں اور عوام سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی اور ہر طبقہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔ر