تلنگانہ میں یو ٹیوب چینلس پر کنٹرول کیلئے حکومت کا منصوبہ

   

200 سے زائد یو ٹیوب چینلس کی گمنام انداز میں کارکردگی، یو ٹیوب انتظامیہ سے تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد۔/26 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کے فرزند ہیمانشو کے خلاف ایک یو ٹیوب چینل کی جانب سے منفی مہم کے بعد تلنگانہ حکومت نے ریاست میں بڑھتے ہوئے یو ٹیوب چینلس پر کنٹرول کی تیاری کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں سینکڑوں کی تعداد میں یو ٹیوب چینلس سرگرم ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور یہ چینلس بعض سیاسی جماعتوں اور قائدین کے اشارے پر مخالفین کے خلاف مہم میں مصروف ہیں۔ کے ٹی آر کے فرزند کے خلاف ایک یو ٹیوب چینل کے ریمارکس کے فوری بعد حکومت نے یو ٹیوب انڈیا انتظامیہ کو مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تلنگانہ سے چلنے والے تمام یو ٹیوب چینلس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ یو ٹیوب چینلس کے نام، ان کے ایڈریس کے علاوہ دیگر تمام تفصیلات بشمول فون نمبرات حکومت حاصل کرے گی۔ یو ٹیوب چینلس کو پابند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اپنے فون نمبرات ڈسپلے کریں تاکہ اگر کسی کو شکایت ہو تو وہ رجوع ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے یو ٹیوب انڈیا کے ذمہ داروں سے بات چیت کی گئی اور چینلس پر پیش کئے جانے والے قابل اعتراض مواد پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تلنگانہ کے ڈیجیٹل میڈیا ڈائرکٹر کے دلیپ کے مطابق یو ٹیوب انتظامیہ کو اندرون دو یوم باقاعدہ مکتوب روانہ کیا جارہا ہے۔ عہدیداروں نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ریاست میں 200 سے زائد تلگو یو ٹیوب چینلس کام کررہے ہیں ان میں سے اکثریت کا کوئی آفس ایڈریس نہیں ہے اور آپریٹرس کے ناموں سے بھی لوگ واقف نہیں ہیں۔ یو ٹیوب چینلس کی جانب سے زیادہ تر قابل اعتراض اور دوسروں کو بدنام کرنے سے متعلق مواد پیش کیا جاتا ہے اور حکومت کے علاوہ پولیس بھی ان پر قابو پانے میں دشواری محسوس کررہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں کئی اہم شخصیتوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا گیا۔ ایسی تصاویر اور ویڈیوز ٹیلی کاسٹ کئے گئے جن سے کسی کی توہین اور دل آزاری ہوسکتی ہے۔ سماج میں کسی بھی شخص کو بدنام کرنا یو ٹیوب چینلس کی عادت بن چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کیلئے یو ٹیوب چینل کا ایڈریس اور فون نمبرات ضروری ہیں جو زیادہ تر چینلس پر دستیاب نہیں۔ حکومت یو ٹیوب چینلس کی من مانی پر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم جیسے یو ٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر پر آئی ٹی ایکٹ کے تحت حکومت کا رول انتہائی کم ہے جس کے نتیجہ میں کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ تلنگانہ حکومت قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد آئی ٹی ایکٹ میں ترمیم کا منصوبہ رکھتی ہے یو ٹیوب چینلس کو جوابدہ بنایا جاسکے۔ سوشیل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمس کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ر