دلت بندھو کیلئے 20 ہزار کروڑ کی توقع، پنشن ، کسانوں اور دیگر فلاحی اسکیمات ترجیحات میں شامل
حیدرآباد۔/15 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مالیاتی سال 2022-23 کا بجٹ 2.70 لاکھ کروڑ متوقع ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کی تیاری کا عمل اختتامی مراحل میں ہے۔ 2021-22 میں ریاست کا بجٹ 2.35 لاکھ کروڑ تھا اور کورونا کی صورتحال سے اُبھرنے کے بعد حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے لہذا مجموعی بجٹ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ بجٹ میں دلت بندھو اسکیم کو تقریباً 20 ہزار کروڑ مختص کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت نے ہر دلت خاندان کو 10 لاکھ روپئے امداد کے تحت اسکیم کا آغاز کیا اور اسے ریاست گیر سطح پر توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔ آئندہ مالیاتی سال ریاست کے تمام اضلاع میں اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔ وزیر فینانس ہریش راؤ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں فینانس اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فلاحی اسکیمات اور کسانوں سے متعلق امدادی اسکیمات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ رعیتو بیمہ، رعیتو بندھو، کلیان لکشمی، شادی مبارک اور کسانوں کو قرض کی معافی جیسی اسکیمات کے لئے زائد بجٹ مختص کیا جاسکتا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ حکومت بجٹ میں پسماندہ طبقات کی بھلائی کیلئے نئی اسکیم کا اعلان کرے گی۔ رعیتو بندھو اسکیم کیلئے گزشتہ بجٹ میں 14000 کروڑ مختص کئے گئے تھے جبکہ آئندہ بجٹ میں دلت بندھو حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔ پنشن اسکیمات کیلئے جاریہ سال بجٹ میں 11 ہزار کروڑ اور قرض معافی اسکیم کے تحت 5500 کروڑ مختص کئے گئے تھے۔ محکمہ فینانس نے مرکز کی جانب سے گرانٹ، اسکیمات میں حصہ داری اور ٹیکس میں حصہ داری کے تحت 35000 کروڑ کی وصولی کی توقع ظاہر کی ہے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے عہدیداروں کے ساتھ بجٹ کی ترجیحات کے سلسلہ میں دو مرتبہ اجلاس منعقد کیا ہے۔ حکومت سرکاری اراضیات کی فروخت کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ نان ٹیکس ریوینو کے تحت جاریہ بجٹ میں حکومت کو 30557 کروڑ کی آمدنی کی توقع تھی۔ ڈسمبر 2021 تک اراضیات کی فروخت سے 5181 کروڑ حاصل ہوئے ہیں۔ حکومت اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ سے 12500 کروڑ کی آمدنی کے بارے میں جاریہ سال پُر امید تھی لیکن اسے ڈسمبر تک 8288 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ جاریہ بجٹ میں فلاحی اسکیمات کیلئے مناسب فنڈز جاری نہیں کئے جاسکے تاہم حکومت 2022-23 کو فلاحی بجٹ کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ ر