زیر التواء درخواستوں کی جلد یکسوئی، وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کا اسمبلی میں بیان
حیدرآباد۔21۔ ستمبر (سیاست نیوز) وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے ریاستی اسمبلی کو یقین دلایا کہ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ سلسلہ میں تمام زیر التواء درخواستوں کی جلد یکسوئی کردی جائے گی ۔ اس کے علاوہ پہلے سے منظورہ درخواست گزاروں کے تمام بقایا جات جاری کئے جائیں گے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف ارکان نے شکایت کی کہ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے سلسلہ میں کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ کئی ہزار درخواستیں زیر التواء ہیں اور اعزازیہ ہر ماہ پابندی سے جاری نہیں کیا جارہا ہے ۔ وزیر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ سابق میں اسکیم سے استفادہ کرنے والے ائمہ مؤذنین کی تعداد 6000 تھی جو بڑھ کر 8 ہزار ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا اکہ تمام اہل امیدواروں کو اعزازیہ منظور کیا جائے گا ۔ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کے علاوہ اعزازیہ کی بروقت اجرائی عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا ماہِ مئی تک کا اعزازیہ جاری کیا جاچکا ہے اور باقی تین ماہ کا اعزازیہ جلد جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اعزازیہ کی ا سکیم پر ہر ماہ تین کروڑ 50 لاکھ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 31 اضلاع میں 8013 ائمہ و مؤذنین اسکیم سے استفادہ کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ استفادہ کنندگان 1090 کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ سنگا ریڈی 834 استفادہ کنندگان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ نظام آباد میں 577 ، محبوب نگر 483 ، جگتیال 302 ، کریم نگر 298 ، سدی پیٹ 286 ، نلگنڈہ 371 ، سوریا پیٹ 333 ، کاما ریڈی 286 ، ناگرکرنول 222 ، گدوال 251 ، رنگا ریڈی 257 ، بھوپال 118 ، پیدا پلی 160 ، سرسلہ 129 ، ورنگل اربن 206 ، ورنگل رورل 150 ، جن گاؤں 118 اور بھونگیر میں 150 استفادہ کنندگان ہیں۔ ارکان اسمبلی ونئے بھاسکر ، جی ویویکا نند اور دوسروں نے شکایت کی کہ وقف بورڈ عہدیداروں کی نااہلی کے نتیجہ میں ہزاروں درخواستیں زیر التواء ہے۔