آر میاپنگ میں تاخیر، بی ایل اوز کے بارے میں شکایات
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ سی سدرشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے آغاز میں ایک ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ حیدرآباد اور میڑچل ملکاجگری میں ماقبل ایس آئی آر میاپنگ کا کام سست رفتار ہے۔ سدرشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں اپریل کی بجائے مئی میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی مشنری مغربی بنگال، ٹاملناڈو اور کیرالا کے اسمبلی انتخابات میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں مردم شماری کا کام بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ایس آئی آر مہم کیلئے ٹیچرس کی خدمات حاصل نہیں کی جارہی ہیں۔ حکومت کے دیگر ملازمین کی خدمات لی جائیں گی جبکہ دیگر ریاستوں میں مردم شماری اور ایس آئی آر کا کام ٹیچرس انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ایس آئی آر کی مہم میں تاخیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ماقبل ایس آئی آر میاپنگ کا کام جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور ملکاجگری میں میاپنگ کے کام میں سست رفتاری کیلئے بوتھ لیول آفیسرس ذمہ دار ہیں۔ کمیشن کو شکایات ملی ہیں کہ بوتھ لیول آفیسرس بستیوں، سلم علاقوں، مخصوص محلہ جات پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ کئی کالونیوں کے عوام نے شکایت کی کہ بی ایل اوز نے ان کے علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ سدرشن ریڈی نے کہا کہ اگر بی ایل اوز ماقبل ایس آئی آر میاپنگ کا کام مکمل نہیں کرتے ہیں تو حقیقی ایس آئی مہم کی تکمیل میں دشواری ہوسکتی ہے۔ ایس آئی آر مہم محض ایک ماہ جاری رہے گی۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس کو اس سلسلہ میں توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق بلدی اسٹاف اور خاص طور پر جی ایچ ایم سی، سائبر آباد اور ملکاجگری بلدی اداروں کے اسٹاف کو پراپرٹی ٹیکس کلکشن میں مصروف کیا گیا ہے اور آمدنی میں اضافہ بلدی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ 1/F/K