گزشتہ سال کی طرح پیاکیج پر غور، ارکان سے مشاورت کے بعد فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے کورونا مریضوںکی امداد سے متعلق پیاکیج کی منظوری کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم بورڈ کے ارکان سے مشاورت کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال لاک ڈاؤن میں غریبوں کی مدد کیلئے وقف بورڈ کی جانب سے اناج اور ضروری اشیاء کے کٹس تقسیم کئے گئے تھے۔ اب جبکہ ریاست میں کورونا کیسیس میں اضافہ ہوچکا ہے اور نائیٹ کرفیو کے سبب غریب خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ۔ لہذا وقف بورڈ گزشتہ سال کی طرح غریبوں اور مریضوں کی امداد کی تیاری کر رہا ہے۔ کورونا کا شکار غریب خاندانوں کے افراد کی مددکے علاوہ غریبوں کو راشن کٹس کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ حکومت کی جانب سے رمضان گفٹ کے طور پر ملبوسات کی تقسیم کا جاری ہے۔ اسی دوران وقف بورڈ کا اجلاس کورونا کیسیس میں اضافہ کے سبب آج منعقد نہ ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ارکان نے کیسیس میں اضافہ کے پیش نظر شرکت سے معذوری ظاہر کی جبکہ بعض دیگر ارکان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ لہذا اجلاس کو رمضان کے بعد طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم اور ارکان سے مشاورت کے بعد غریبوں کے لئے پیاکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں حکومت کی جانب سے مزید تحدیدات کے امکانات کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ کوئی فیصلہ کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی مدد وقف بورڈ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ گزشتہ سال لاکھوں روپئے کے کٹس غریبوں میں تقسیم کئے گئے تھے۔ حج ہاؤز کی عمارت کو کووڈ کیر سنٹر میں تبدیل کرنے سے متعلق حج کمیٹی آف انڈیا کی تجویز پر محمد سلیم نے کہا کہ 26 اپریل کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ سرکولر میں وضاحت کی گئی ہے کہ حج ہاؤز کی عمارت آزادانہ ہونی چاہئے اور وہ دیگر عمارتوں سے ہٹ کر ہو۔ تلنگانہ حج ہاؤز کی عمارت میں پانچ سرکاری اداروں کے دفاتر موجود ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں افراد کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ لہذا اس عمارت میں کووڈ کیر سنٹر کے قیام کی گنجائش نہیں ہے ۔ تلنگانہ حج کمیٹی اس سلسلہ میں حج کمیٹی آف انڈیا کو مکتوب روانہ کرے گی۔ حج ہاؤز تلنگانہ میں وقف بورڈ کے علاوہ اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن ، ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس کے علاوہ قضاۃ کا دفتر موجود ہے۔ لہذا اس عمارت میں کورونا مریضوں کی نگہداشت کا سنٹر قائم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس میں سہولتوں کا فقدان ہے۔