آندھرا کے غیر قانونی پراجکٹس کی تعمیر جاری ، بھٹی وکرمارکا کا الزام
حیدرآباد: سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت ریاست کے آبی مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر نے دریاؤں کے پانی کے حصول کے لئے جدوجہد کا اعلان کیا تھا لیکن آندھراپردیش حکومت کی جانب سے غیر قانونی تعمیر کئے جارہے پراجکٹس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کیلئے آندھراپردیش حکومت نے جی او جاری کردیا ہے ۔ کرشنا سے زائد مقدار میں پانی حاصل کرنے کیلئے کئی پراجکٹس شروع کئے گئے لیکن کے سی آر حکومت معنی خیز خاموشی کے ذریعہ عوام کیلئے حیرت کا باعث بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مرکزی حکومت یا آبی ٹریبونل سے شکایت کرنا کافی نہیں ہوگا ۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ شخصی طور پر وزراء کے ساتھ مرکز سے نمائندگی کرتے ہوئے آندھراپردیش کے پراجکٹس کو روکنے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کالیشورم کے علاوہ دیگر پراجکٹس سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تلنگانہ کے کئی علاقے آبپاشی کے لئے پانی سے محروم ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ چیف منسٹر اور ان کے وزراء بیان بازی کے ذریعہ کسانوں کو تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کالیشورم پراجکٹس سے ایک ایکر اراضی کو پانی سیراب نہیں ہوا۔ حالانکہ تعمیر پر80,000 کروڑ خرچ کئے گئے ۔