بیرون ریاست و ملک کے صحافیوں کی قدر دانی ، ریاست کے صحافیوں میں سخت ناراضگی
حیدرآباد۔12۔ مئی۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست کے صحافیوں کے ہمراہ ’’ گھر کی مرغی دال برابر‘‘کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔حکومت تلنگانہ کی نظر میں بیرون ریاست صحافی ہی صحافی ہیں جبکہ ریاست سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔گذشتہ یوم مالدیپ سے حیدرآباد مطالعاتی دورہ پر پہنچنے والے صحافیوں کو حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے عہدیداروں کی نگرانی میں سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کا دورہ کرواتے ہوئے انہیں اس عمارت کی تفصیلات سے واقف کروایا گیا اور سیکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب میں بھی ملک بھر سے 70 صحافیوں کو مدعو کرنے کے علاوہ ان کو فائیو اسٹار سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی تھی لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سیکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب سے بھی دور رکھا گیاتھا۔ملک بھر میں جمہوری اصولوں کی بات کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کو بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قدیم سیکریٹریٹ کی عمارت کے انہدام اور بی آر بی کے بھون میں سیکریٹریٹ کی منتقلی کے وقت ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سیکریٹریٹ میں داخلہ پر پابندی عائد کی تھی لیکن توقع کی جا رہی تھی کہ سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سابق کی طرح آمد و رفت کی اجازت حاصل رہے گی لیکن نئے سیکریٹریٹ کی عمارت کی تعمیر کے بعد بھی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ان پابندیوں کو برخواست نہیں کیا گیا بلکہ سیکریٹریٹ کی عمارت سے ہٹ کرتعمیر کی گئی عمارت میں میڈیا لاؤنج کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے اور انہیں وہاں کسی قسم کی کوئی سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔ گذشتہ یوم مالدیپ کے صحافیوں کے دورہ سیکریٹریٹ کے موقع پر مقامی صحافیوں نے عہدیداروں سے استفسار کیا تو عہدیداروںنے بتایا کہ حکومت کے فیصلہ پر عمل کررہے ہیں ۔ حکومت مقامی صحافیوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سرکاری دفاتر معتمدی سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور بیرونی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو شاندار عمارت اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے طویل القامت مجسمہ کا مشاہدہ کرواتے ہوئے ریاست میں جمہوری اصولوں کی پاسداری کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ صحافیوں کی سیکریٹریٹ میں نقل وحرکت اب بھی ممکن نہیں ہے۔م