اسمبلی میں ہنگامہ خیز بحث، ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ قرض ایک سال میں حاصل کرنے ہریش راؤ کا الزام، محض 52 ہزار کروڑ حاصل کئے گئے : بھٹی وکرامارکا
حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ریاست کے قرض کے مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم مباحث ہوئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا اور بی آر ایس رکن ٹی ہریش راؤ کے درمیان الفاظ کا تبادلہ اور ایک دوسرے کو چیلنجس کا ماحول ایوان میں دیکھا گیا۔ وقفہ سوالات کے دوران حکومت کی جانب سے ایک سال میں حاصل کردہ قرض کے مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر نے ایوان میں مباحث کا پیشکش کیا جس پر ہریش راؤ نے اتفاق کرتے ہوئے اسپیکر سے خواہش کی کہ مباحث کی تاریخ اور وقت کا اعلان کیا جائے۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے ایک سال میں ایک لاکھ 27 ہزار 208 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے اور پانچ برسوں میں کانگریس حکومت جملہ 6 لاکھ 36 ہزار 400 کروڑ قرض حاصل کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے ہریش راؤ کے اعداد وشمار سے اختلاف کیا اور کہا کہ حکومت نے محض 51200 کروڑ قرض حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں 7 لاکھ کروڑ قرض حاصل کیا گیا تھا اور حکومت اس سلسلہ میں اعداد و شمار پیش کرسکتی ہے۔ ہریش راؤ نے ضمنی سوالات کے تحت اظہار خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں 7 لاکھ کروڑ قرض کے بارے میں غلط پروپگنڈہ کیا جارہا ہے حالانکہ 10 برسوں میں 417496 کروڑ قرض حاصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر فینانس کی جانب سے غلط اعداد و شمار کی پیشکشی پر اسپیکر کو تحریک مراعات کی نوٹس دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قرض کے مسئلہ پر گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ بی آر ایس کی امیج کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک مرحلہ پر بھٹی وکرامارکا اور ہریش راؤ کے درمیان تلخ مباحث ہوئے اور ڈپٹی چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ ہریش راؤ کو عادت ہوچکی ہے جھوٹی معلومات کی سچ کی طرح تشہیر کریں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حکومت نے محض 52 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے اور زیادہ تر رقم بی آر ایس کے قرض کی ادائیگی میں خرچ ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کو شکست سے دوچار کیا باوجود اس کے بی آر ایس قائدین کے غرور میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ بی آر ایس نے 40 ہزار کروڑ کے بلز جاری نہیں کئے جبکہ کانگریس نے 14 ہزار کروڑ کے بقایا جات جاری کرتے ہوئے مختلف اسکیمات کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 66000 کروڑ قرض کی رقم ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیول سپلائیز ڈپارٹمنٹ کے 18 ہزار کروڑ کے علاوہ برقی کمپنیوں کو 10 ہزار کروڑ کے بقایا جات ہیں۔ انہوں نے بی آر ایس کی جانب سے پیش کردہ تحریک مراعات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ایوان کے باہر انہوں نے کوئی پالیسی اعلان نہیں کیا ہے۔ میڈیا کے سوال پر انہوں نے بے زمین زرعی مزدوروں کو سالانہ 12 ہزار روپئے کی امداد اسکیم کا حوالہ دیا تھا۔ ہریش راؤ اور بی آر ایس کے دیگر ارکان نے ڈپٹی چیف منسٹر کے بیان پر احتجاج کیا اور ایوان میں مباحث کی مانگ کی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کے سی آر دور حکومت کے ترقیاتی کاموں اور فلاحی اسکیمات کو منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے۔ انہوں نے ایوان میں قرض مسئلہ پر مباحث کی مانگ کی۔1