تلنگانہ کے چار اضلاع کے ایم ایل سی حلقوں کی معیاد کی عنقریب تکمیل

   

گریجویٹ حلقہ سے کامیابی کیلئے بی جے پی کی ابھی سے منصوبہ بندی

نظام آباد :18؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام آباد ،عادل آباد، کریم نگر ،میدک گریجویٹ حلقے کے ایم ایل سی معیاد ختم ہو رہی ہے اور آئندہ منعقد شدنی گریجویٹ حلقے سے کامیابی کے لیے بی جے پی ابھی سے منصوبہ بند نظر آرہی ہے لیکن امیدوار کے انتخاب کو لے کر مرکزی وزیر اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیان کشمکش جاری ہے کیونکہ متحدہ ضلع کریم نگر، نظام آباد، میدک ،عادل آباد سے بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ان میں سے کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ مرکزی کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں جبکہ یہ تینوں کے درمیان گریجویٹ حلقے کے ایم ایل سی اس کا ٹکٹ اپنے فالوور کو دلانے کے لیے منصوبہ بند ہے جس کی وجہ سے پارٹی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے جس کی بنا پر تین ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور یہ کمیٹی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ آخر کار فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا ہے تین رکنی کمیٹی نے ضلع وارکان اسمبلی، ایم ایل ایز، ریاستی اور ضلعی قائدین کی رائے حاصل کی اور رپورٹ ریاستی صدر کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں یہ کیا کے امیدوار کون ہوگا اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ایک ساتھ کام کرنے کی وزیر اعظم مودی کی حالیہ نصیحت پر بی جے پی لیڈروں میں کوئی اثر نظر نہیں ارہا ہے ایم ایل سی انتخابات میں امیدوار کون بھی ہو اس لے کر ارکان اسمبلی کے درمیان ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا ۔ لیکن نظام آباد گریجویٹ ایم ایل سی حلقے سے زعفرانی پرچم لہرانے کا دعوی کر رہی ہیں کانگریس کے جیون ریڈی گریجویٹ حلقے کے ایم ایل سی ہے ان معیاد ختم ہو رہی ہے کانگریس پارٹی ایک بار پھر جیون ریڈی کو ایم ایل سی الیکشن میں اتارنے کے منصوبہ بند نظر آرہی ہیں لیکن سینئر قائدین جیون ریڈی کی امیدواری پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں اسی وجہ سے بی جے پی کے قائدین ابھی سے گریجویٹ حلقے کے ایم ایل سی امیدوار کو لے کر سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے اور ہائی کمانڈ کی ہدایت کے مطابق مل کر کام کرنے کے لیے فکر مند ہے لیکن ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا گریجویٹ ایم ایل سی کا حلقہ چار مشترکہ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے جس میں کریم نگر، نظام آباد، عادل آباد اور میدک ہیں ان چاروں اضلاع میں بی جے پی کے ایم پی ہیں ۔عادل آباد کو چھوڑ کر باقی تین ضلع میں بی جے پی کے ارکان اسمبلی ہے اور اہم قائدین بھی ہے جس کی وجہ سے امیدوار کے معاملے میں تنازعہ شروع ہوگیا اور ہر شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ ان کے فالور کو امیدوار بنایا جائے ہائی کمانڈ نے تین سینئر لیڈروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ کمیٹی امیدوار کے انتخاب کے بارے میں رائے بھی حاصل کی ہے اور یہ کمیٹی نے ایم پی کے تجویز کردہ امیدواروں کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے ان چاروں اضلاع میں بی جے پی لیڈران کی نمائندگی جس کی وجہ سے یہیں سے اصل مسئلہ پیدا ہوا ہے عادل آباد کے ایم پی ناگیش، نظام آباد کے ایم پی دھرم پوری اروند اور میدک کے ایم پی رگھو نندن راؤ نے مل کر منچریال ضلع صدر رگھونندن راؤ کے نام کی سفارش کی ہے۔ متعلقہ اضلاع کے صدور نے بھی ان کے نام کی تائید کی ہے لیکن کریم نگر کے ایم پی مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے راگھونندراؤ کی امیدوار کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ میدک ضلع صدر گوداوری کے شوہر انجی ریڈی ٹکٹ کے دعوی دار ہے اور انجی ریڈی کا نام تین رکنی کمیٹی نے بھی ان کے نام کی تجویز کی ہے لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ بی ار ایس بھی گریجویٹ ایم ایل سی کے حلقے کے بارے میں ابھی تک کوئی نام کا اعلان نہیں کیا ہے ماہ مارچ میں گریجویٹ ایم ایل سی حلقے کی معیاد ختم ہو رہی ہے اس کے بعد ہی فیصلہ کیے جانے کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔
بودھن میں صفائی کے کاموں کا معائنہ
بودھن /18 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بودھن کمشنر بلدیہ وینکٹ نارائنہ نے آج صبح سویرے بودھن شہر میں جاری صاف صفائی کے کاموں کا جائزہ لیا ۔ اس دوران انہوں نے مسجد ابراہیمہ شربتی کنال کے قریب جمع کچرے کی نکاسی کی بلدی عملے کو ہدایت دی اور انہوں نے گھروں کا کچرا کنال میں نہ پھینکنے کی شہریان بودھن سے خواہش کی ۔