مخالف حکومت ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے پارٹی کے قومی صدر این چندرا بابو نائیڈو کا فیصلہ
پارٹی فیصلے سے گیانیشور مدیراج ناراض ، بی آر ایس سے رابطہ میں ، کانگریس کو فائدہ ہونے کے امکانات
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلگو دیشم پارٹی تلنگانہ میں مقابلہ کرتے ہوئے مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کے حق میں نہیں پارٹی قومی قیادت کے فیصلے سے تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی کو واقف کرادیا گیا ہے ۔ جس کے بعد صدر تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی گیانیشور ناراض ہوگئے ہیں اور حکمران بی آر ایس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وہ دو تین دن میں گیانیشور مدیراج تلگو دیشم پارٹی سے مستعفی ہو کر بی آر ایس میں شامل ہوجائیں گے ۔ بتایا جارہا ہے کہ کانگریس کو فائدہ پہونچانے کے لیے تلگو دیشم کے قومی صدر و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ میں مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ صدر تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی گیانیشور مدیراج نے جیل میں چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرنے اور ریاست کے 89 اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کرنے کا اعلان کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ہی تلگو دیشم پارٹی کا فیصلہ تبدیل ہوگیا ۔ تلگو دیشم کے قومی جنرل سکریٹری نارا لوکیش نے جیل میں چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی ۔ تلنگانہ کی تازہ سیاسی صورتحال سے انہیں واقف کرایا جس کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا احساس ہے کہ تلگو دیشم پارٹی مقابلہ کرنے سے سیما آندھرا اور کما طبقہ کے ووٹ تقسیم ہوجانے سے اس کا راست بی آر ایس پارٹی کو فائدہ ہوگا ۔ بی آر ایس پارٹی کو نقصان اور کانگریس پارٹی کو فائدہ پہونچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ فی الحال تلگو دیشم پارٹی کے بیشتر قائدین اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی ماضی میں تلگو دیشم پارٹی کا حصہ رہے ہیں ۔ اس لیے کانگریس پارٹی کو فائدہ پہونچانے کے لیے سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ بی آر ایس پارٹی نے مدیراج طبقہ کو ایک بھی ٹکٹ نہیں دیا ہے جس پر مدیراج طبقہ بی آر ایس سے سخت ناراض ہے ۔ ریاست میں مدیراج طبقہ کے 50 لاکھ ووٹ ہیں ۔ مدیراج طبقہ کو پارٹی سے قریب کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کے قائدین کو بی آر ایس میں شامل کرایا جارہا ہے ۔ چند دن قبل ٹی این جی اوز کے صدر ایم راجندر کو رضاکارانہ طور پر ملازمت سے سبکدوش کراتے ہوئے بی آر ایس میں شامل کرایا گیا ہے اور اب گیانیشور مدیراج سے بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔۔ ن