رشیدالدین
وشوا گرو سرینڈر مودی نکلے … جنگ ہندوستان کی سرحد تک
نتیش کمار کی خاموش وداعی … بہار پر بی جے پی کا قبضہ
’’وشوا گرو یا سرینڈر مودی‘‘ امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے دوران وشوا گرو کرنے والے نریندر مودی نے شائد کسی بنکر میں پناہ لے لی ہے۔ وشوا گرو بننے کا خواب درمیان میں ہی ٹوٹ چکا ہے اور دنیا جان چکی ہے کہ نریندر مودی نے امریکہ اور اسرائیل کے آگے سرینڈر کردیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعہ دنیا بھر میں ہندوستان کی اہمیت کو کم کردیا ہے ۔ وہ ہندوستان جو غیر جانبدار تحریک اور سارک کا بانی رہا ہے، آج وہی ہندوستان خوفزدہ اور امریکہ کے آگے سر نگوں دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا بھر میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں طاقتور ممالک کی نظریں ہندوستان پر اٹھتی رہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو ، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ نے دنیا میں ہندوستان کے سفارتی رول کی اہمیت کو برقرار رکھا تھا لیکن نریندر مودی نے اٹل بہاری واجپائی کی پالیسیوں سے بھی انحراف کرلیا ہے ۔ مودی کے اسرائیلی دورہ سے واپسی کے فوری بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے مودی نے حملہ کی منظوری دے دی ۔ مودی کے اچانک دورہ اسرائیل اور پھر ایران پر حملہ کے پس پردہ آخر کیا راز ہے ، اس کی وضاحت حکومت اور بی جے پی کو کرنی چاہئے ۔ ایران پر حملہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ذریعہ امریکہ اور اسرائیل نے سمجھا تھا کہ ایران میں بغاوت ہوجائے گی اور قدامت پسندوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن معاملہ کچھ الٹا ہوگیا۔ حملہ کے بعد ایران قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور ہر شخص ملک پر جان نچھاور کرنے کیلئے تیار ہوگیا۔ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ناکام ہوا اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے امریکہ کے حلیفوں کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ دو دن میں کامیابی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ اور اسرائیل خود جنگ میں گھرچکے ہیں اور کسی طرح باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایران کی جنگی حکمت عملی نے عرب ممالک کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا کہ امریکہ ان کا محافظ نہیں ہوسکتا۔ امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کے بعد عرب ممالک کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا ہے ۔ دفاعی شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں سے امریکہ اور اسرائیل کے سپر پاور ہونے کی قلعی کھل چکی ہے ۔ جنگ کے اس ماحول میں وشوا گرو کہاں غیب ہیں اور وہ لب کشائی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وشوا گرو نے یوکرین اور روس میں جنگ کے موقع پر ہندوستانی باشندوں کو بحفاظت نکالنے کیلئے جنگ روکنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ اتنا ہی نہیں گزشتہ سال رمضان میں غزہ پر حملے روکنے اسرائیل کو ترغیب دینے کی بات کہی تھی ۔ جب مودی کا اتنا اثر ہے تو پھر وہ موجودہ جنگ میں خاموش کیوں ہیں؟ دراصل مودی ہندوستان میں بڑی بڑی باتوں کے ذریعہ پھیکو کہلائے جاتے ہیں لیکن ان سے بڑے پھیکو تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے ہند۔پاک جنگ روکنے کا کئی مرتبہ دعویٰ کیا۔ ہندوستان کے امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ ایران اور عرب دنیا سے اچھے روابط ہیں ، ایسے میں نریندر مودی جنگ بندی اور خطہ میں قیام امن کیلئے اہم رول ادا کرسکتے تھے لیکن مودی کی پر اسرار خاموشی نے کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ امریکہ سے ٹریڈ ڈیل ، کسانوں کے مفادات پر سودا ، ایران پر حملہ ، خامنہ ای کی شہادت حتیٰ کہ بحر ہند میں مہمان ایرانی بحری بیڑہ پر امریکی حملے پر بھی مودی نے زبان نہیں کھولی ۔ امریکی حملہ میں ایران کے معصوم اسکولی بچوں کی موت پر مودی نے افسوس تک نہیں جتایا ۔ امریکہ سے نریندر مودی کے خوف کا یہ عالم ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کی مذمت توکجا ان کی شہادت پر افسوس اور تعزیت کا اظہار آج تک نہیں کیا گیا۔ ایسی کیا مجبوری ہے کہ ایک ملک کے رہنما کی موت پر تعزیت کرنے میں پس و پیش ہو۔ دراصل ٹریڈ ڈیل ، ایپسٹین فائلز اور اڈانی کے خلاف امریکہ میں مقدمہ دراصل یہ مودی کی مجبوریاں ہیں جن کا وہ کھل کر اظہار نہیں کرسکتے۔ نئی دہلی میں وزیراعظم کے دفتر سے بمشکل دو کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایرانی سفارتخانہ ہے جہاں تعزیتی کتاب رکھی گئی ہے لیکن نریندر مودی تعزیتی پیام درج کرانے نہیں پہنچے۔ خامنہ ای کی شہادت کے 6 دن بعد خارجہ سکریٹری کو تعزیت کیلئے روانہ کیا گیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نریندر مودی یا وزیر خارجہ جئے شنکر تعزیت کیلئے جاتے۔ 6 دن بعد اچانک تعزیت کا خیال کیوں آیا ؟ دراصل امریکہ کے کئی حلیف ممالک نے کھل کر حملہ کی مخالفت شروع کردی ہے۔ ایک طرف اندرون ملک مخالفت کا ٹرمپ کو سامنا ہے تو دوسری طرف اسپین ، فرانس ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک نے بھی یو ٹرن لے لیا جس کے بعد ہندوستان کو تعزیت کا خیال آیا۔ جنگ آخر کار ہندوستان کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔ بحر ہند میں ہندوستان کے مہمان ایرانی بحری جہاز پر امریکہ نے حملہ کردیا ۔ ایران کا یہ بحری بیڑہ وشاکھاپٹنم میں امن مشن کے طور پر شریک ہوا تھا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ایران اور دیگر ممالک کی بحری مشقوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ ہندوستان کے یہ مہمان جیسے ہی بحر ہند میں ہندوستان کی سرحد سے باہر ہوئے امریکہ نے حملہ کردیا۔ ہندوستان سے محض 300 کیلو میٹر کی دوری پر امریکہ کی یہ کارروائی ہندوستان کے لئے جنگ کی دستک ہے۔ ہندوستان کو چاہئے تھا کہ وہ اس کی بحری سرحد کے قریب حملہ کی مذمت کرتا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بحر ہند پر ہندوستان اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اپنے مہمانوں کو نہیں بچا سکا۔ اتنا ہی نہیں ہندوستان نے ایرانی بحری بیڑہ کو بچانے کی کوشش نہیں کی جبکہ سری لنکا کی بحریہ نے رسکیو آپریشن کے ذریعہ کئی ایرانی بحریہ کے عہدیداروں کی جان بچائی اور زخمیوں کا علاج کیا۔ سری لنکا ایک چھوٹے اور کمزور ملک کے باوجود امریکہ سے خوفزدہ نہیں ہے جبکہ وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوستان کے کسی ترجمان نے حملہ کی مذمت اور ہلاکتوں پر دکھ اور تعزیت نہیں کی جوکہ انسانی ہمدردی کا تقاضہ بھی ہے۔ کیا اظہار تعزیت کیلئے بھی ٹرمپ سے اجازت ضروری ہے ؟ اپنی سرحد کے قریب مہمانوں پر حملہ ہوجائے لیکن اس پر بھی انجان ہوگئے جیسے وہ پہچانتے نہیں۔ عرب ممالک نے بھی ایران پر حملہ کیلئے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے اور امریکہ سے دوستی عرب دنیا کے لئے نقصان دہ ثابت ہونے لگی۔ ان حالات میں مصالحت اور سفارتی کوششوں کے ذریعہ جنگ بندی کی مساعی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے سے دنیا بھر میں ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
بہار میں نتیش کمار کی وداعی طئے ہوچکی ہے اور بی جے پی ایک اور علاقائی پارٹی کا صفایہ کرنے کا اسکیچ تیار کرچکی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ’’25 سے 30 پھر سے نتیش‘‘ کا نعرہ لگایا تھا لیکن 2030 تو دور کی بات ہے صرف 105 دنوں میں نتیش کمار کی وداعی کیلئے بارات تیار کرلی گئی۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا کی رکنیت کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کردیا جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بہار میں آئندہ چیف منسٹر بی جے پی کا ہوگا اور دیگر ریاستوں کی طرح بی جے پی اپنی ایک علاقائی حلیف پارٹی کا صفایا کردے گی ۔ نتیش کمار نے پرچہ نامزدگی پر دستخط نہیں کئے بلکہ جنتا دل یونائٹیڈ کے پروانہ موت پر اپنی مہر لگادی ہے۔ بی جے پی نے ابھی تک اپنی جن حلیف پارٹیوں کو کمزور یا ان کا صفایا کیا ، ان میں شیوسینا (مہاراشٹرا)، بی جے ڈی (اڈیشہ) ، انا ڈی ایم کے (ٹاملناڈو) ، ایم جی پی (گوا) ، آسام گنا پریشد (آسام) اور انڈین نیشنل لوک دل (ہریانہ) شامل ہیں۔ بہار میں تشکیل حکومت کے 105 دن میں امیت شاہ نے نتیش کمار کی وداعی کا سامان تیار کرلیا اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلی باری چندرا بابو نائیڈو کی ہوگی۔ الیکشن سے قبل ہی نتیش کمار کی صحت کے بارے میں کئی باتیں کہی جارہی تھیں اور اب 75 سال عمر کا بہانہ بناکر اقتدار سے دور کیا جارہا ہے۔ نتیش کمار 10 مرتبہ چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف لینے کا اعزاز رکھتے ہیں اور 7 مرتبہ بی جے پی اور 3 مرتبہ آر جے ڈی کی مدد سے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے ۔ ’’پلٹو رام‘‘ کے نام سے شناخت رکھنے والے نتیش کمار کی صحت جیسے ہی کمزور ہوئی، بی جے پی ان پر حاوی ہوگئی اور بتدریج بہار میں جنتادل یونائٹیڈ دو حصوں میں منقسم ہوجائے گی اور ایک حصہ بی جے پی میں ضم ہوسکتا ہے۔ نتیش کمار کی وداعی کا جشن بھی عجیب ہے۔ اگرچہ وہ سجے سجائے گھوڑے پر سوار ضرور ہیں لیکن بی جے پی سہرا کسی اور کے سر باندھنے کی تیاری میں ہے۔ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ صرف چار ماہ میں نتیش کمار کا تختہ الٹ دیا گیا ہے ۔ ایسے وقت جبکہ دنیا میں جنگ کا ماحول ہے بی جے پی نے بہار میں ایک سیاسی بم کے ذریعہ جنتادل یونائٹیڈ کو توڑنے کی تیاری کرلی ہے۔ نتیش کمار کے زوال سے پہلی مرتبہ بہار میں بی جے پی کا چیف منسٹر ہوگا اور سیکولر پالیسیوں کے بجائے ہندوتوا نظریات پر عمل کیا جائے گا۔ اترپردیش کے بعد بہار پر بی جے پی کی نظر تھی جو پوری ہوچکی ہے۔ جنگ کے حالات پر جوہر کانپوری نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا