واشنگٹن ؍ بیجنگ ۔ امریکی صدر جوبائیڈن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعہ کو ویڈیو کال کے ذریعے یوکرین میں روس کی جارحیت کے معاملے پر گفتگو کی۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صدر بائیڈن نے اس گفتگو میں یوکرین کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا نکتہ نظر بیان کیا۔ اور اس تنازعہ کو جنم لینے سے روکنے اور پھر اس کا جواب دینے کی تفصیلی کوششوں کو ذکر کیا۔ انہوں نے صدر شی کو بتایا کہ اگر چین نے روس کی مدد کی تو اسے کن نتایج کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ وائٹ ہاوس کے بیان کے مطابق دونوں صدور نے رابطے کے ذرائع کھلے رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ چین کے ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر شی نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ایسے تنازعات کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت دو گھنٹوں سے کچھ ہی دیر کم جاری رہی۔ اس سے قبل، امریکہ کی نائب وزیر خارجہ، وینڈی شرمن نے امریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کو بتایا کہ شی کو روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کو بتانا ہوگا کہ وہ یوکرین میں اپنی مرضی سے شروع کی گئی لڑائی اور قتل عام بند کریں۔ انھوں نے سی این این کو بتایا کہ، ضرورت اس بات کی ہے کہ چین یہ یقینی بنائے کہ وہ مالی یا کسی اور اعتبار سے کسی ایسے گڑھے میں نہ جا گرے، جس طرح کی پابندیاں روس جھیل رہا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق، شی نے بائیڈن سے کہا کہ یوکرین کی طرح کے تنازعات اور محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ شی نے کہا کہ ایک ملک کے دوسرے ملک سے تعلقات محاذ آرائی کی سطح تک نہیں پہنچنے چاہئیں، چونکہ تنازعات اور محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں ہوا کرتے۔