Thursday , June 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / توہم پرستی

توہم پرستی

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

بدشگونی پرانا مرض ہے، دنیا کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ کہانی بڑی قدیم ہے، کچھ لوگ ہمیشہ توہمات کی دنیا میں سیر کرتے ہیں، قدم قدم پر کوئی نہ کوئی وہم ان کو ستاتا رہتا ہے، توہم صرف بے علم لوگوں میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ علم کے بو باس رکھنے والے بھی توہمات کا شکار رہتے ہیں، علم و آگہی سے دنیا آباد ہورہی ہے، سائنسی ایجادات نے علم و عرفان کی نئی راہیں کھولی ہیںاسکے باوجود توہمات کی دنیا ویران نہیں ہوسکی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خالق فطرت نے انسان کے خمیر میں نقصان سے بچنے اور معاملات زندگی میں احتیاط برتنے کا عنصر شامل رکھاہے اس کی وجہ جب کوئی نقصان کی صورت پیش آسکتی ہے ، انسان عقل وفہم سے کام لیکر اپنا تحفظ کرسکتا ہے، لیکن جب انسان قدرت کی دی گئی اس حس کو اپنے اوپر طاری کرلیتا ہے تو پھر احتیاط کے پہلو انسانی مزاج و سرشت کاایسا حصہ بن جاتے ہیںکہ ہر کام میں کوئی نہ کوئی وہم رکاوٹ کا باعث بن جاتا ہے۔ توہمات نے انسانوں کی مٹی پلید کی ہے، توہمات کی دنیا سے آزاد ہونے کی ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے اسلام کا عقیدۂ توحید، توحید جہاں راسخ ہوگی وہاں توہم کا کوئی وجود نہیں رہیگا۔ اسلام سے پہلے دور جاہلیت پورے کا پورا توہمات کے جال میں محبوس تھا، جہاں جہاں توحید کی روشنی پہنچی وہاں وہاں سے توہم رخصت ہوتا گیا، اور جو عقیدۂ توحید کے نور سے محروم رہے وہ توہمات کے اندھیرے میں سرگرداں رہے، توہم پرستی جہاں ہوگی وہاں ہر کوئی توہم کا شکار رہے گا خواہ وہ امیر ہو کہ غریب، بادشاہ ہو کہ فقیر۔ اس توہم کے میلان سے ہر دور میں نجومیوں اور کاہنوں کی چاندی بنی رہی ہے، مالدار اُن بڑے نجومیوں کا سہارا لیتے ہیں جو سماج میں شہرت رکھتے ہیںاور زیادہ فیس حاصل کرتے ہیں، اب رہے بیچارے غریب کہ اونچے درجہ کے نجومیوں تک پہنچ ان کی بساط سے باہر ہوتی ہے

اسلئے فٹ پاتھ پر قسمت کا حال بتانے والے نجومی غریبوں کو اپنے دام فریب میں پھانستے ہیں، ان نجومیوں کے پالتوطوطے ان کی قسمت کا حال بتاتے ہیں۔ اس توہم پرستی کے بادل اب ہماری ریاستی حکومت پر بھی منڈلانے لگے ہیں، توہم پرستی کی اسیری شاید موجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ صد سالہ قدیم و تاریخی سکریٹریٹ کی عمارت کا تخلیہ کریں، اسی لئے چیسٹ ہاسپٹل کے احاطہ میں اس کی منتقلی پر غور و خوض جاری ہے، حالانکہ یہ وہ تاریخی عمارت ہے جہاں آصف جاہی حکومت اور اس کے بعد قائم جمہوری حکومت کے کئی سربراہوں نے نظام حکومت چلایا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا جہاں آباد ہورہی ہے اور انسانی تحقیقات سمندر کی گہرائیوں میں، زمین کی وسعتوں میں، فضاؤں کی بلندیوں میں کھوج کرکے نئی نئی تحقیقات اور نت نئی معلومات سے دنیا کو روشناس کروارہی ہیں جس سے معرفت الٰہی کی راہیں آسان ہورہی ہیں اور عقیدۂ توحید کی طرف اس کے ذریعہ خاموش دعوت پہنچ رہی ہے، اس کے باوجود جہالت و لاعلمی کی ایک دنیا ہے جو علم و تحقیق سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے قدیم توہمات کو سینہ سے لگائے ہوئے جی رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسی ہی روح فرسا خبر اخبارات کی زینت بنی ہے جو علم و آگہی کا منہ چڑا رہی ہے، شہر چتور کے ایک دیہات میں پرمیشوری نامی ہندو دیوی کا اس مذہب کے ماننے والوں کی طرف سے جشن منایا جاتا ہے، اس جشن میں وہ خواتین جو اولاد سے محروم ہیں گلے میں لیمو کا ہار ڈالے، پیشانی پر ٹیکہ لگائے اور زبان باہر نکالے ہوئے رقص کرتی ہیں، ایک بہت بڑا ہجوم ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ رقص کے ساتھ گشت کرتے ہوئے شمشان گھاٹ میں داخل ہوتی ہیں

اور وہاں سمادھیوں میں جو انسانی جسم کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں دستیاب ہوتی ہیں ان کو اپنے منہ میں رکھ کر چباتی ہیںاور یہ عقیدہ رکھتی ہیں کہ ان کی مراد پوری ہوگی اور ان کی گود ہری ہوگی (العیاذباللہ)۔ یقینا یہ خبر دلوں کو رنجیدہ کرتی ہے اور امت مسلمہ کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ اس نے خیر امت کے منصب پر فائز ہوکر اِن فرسودہ و بیہودہ اعتقادات کی بیخ کنی کیلئے کوئی ٹھوس کام کیوں نہیں کیا۔ یہ تو ان اقوام کی کہانی ہے جو سرتاپا کفر و شرک کے سمندر میں غرق ہیں، ان کی خبرگیری کرنے اور ان کو راہ ہدایت پر لانے کی ذمہ داری اس خیرامت پر اسلام نے عائد کی ہے لیکن اس سے زیادہ رنجیدہ صورتحال خود اس خیرامت کی ہے۔
مسلم سماج خوشی و غم کے مواقع پر ایسی بہت سی روایات کا پابند ہے جو غیر اسلامی ہیںاور جو غیر اسلامی تہذیب کی شناخت ہیں، بدقسمتی سے وہ اس وقت مسلم سماج کا حصہ بنے ہوئے ہیں، ان غیر اسلامی رسوم کیوجہ اسلامی تہذیب مسخ ہورہی ہے۔ غیر اسلامی روایات بکثرت ہیں، انکی نشاندہی تفصیل طلب ہے، خوشی و غم کے موقع سے یہاں صرف ایک مثال پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی غیر اسلامی روایات ہیں لیکن بطور مثال ایک روایت جسکی اکثر پابندی کیجاتی ہے وہ یہ ہے کہ نوشہ کے ہاتھ میں چاقو یا جنبیہ ایک خوشنما کپڑے میں لپیٹ کرتھما دیاجاتا ہے، اسکو اسلئے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اسکی وجہ سے نوشہ اثرات بد سے محفوظ رہینگے۔ غم کے موقع کی ایک مثال یہ ہے کہ عام طور پر کسی کا انتقال چہارشنبہ کے دن ہوجائے تو جاہلانہ توہمات کی اسیری اور عقیدۂ توحید میں کمزوری کیوجہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خاندان میں اب چار اموات ہوسکتی ہیں، اسکا توڑ اسطرح کیا جاتا ہے کہ جنازہ جب گھر کے باہر نکالا جائے تو اسکے سامنے دہی کی ہنڈی کچھ بلندی سے نیچے گرا دی جاتی ہے ، چنانچہ ایسا ایک واقعہ چشم دید ہے۔

ان جیسے واقعات قال قال ہوسکتے ہیں لیکن یہ بھی اسلئے قابل اصلاح ہیں کہ امت مسلمہ عقیدۂ توحید کیوجہ موت و زیست اور ہر طرح کے نفع و ضرر کے رونما ہونیوالے واقعات کو عقیدۂ تقدیر سے جوڑ کراپنے سارے معاملات کو اللہ کے حوالے کرنے کی پابند ہے۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت نبی پاکﷺ کی سواری کی پشت پرسوار تھے، آپﷺ نے ان سے خطاب کرکے فرمایا: ائے میرے پیارے بچے! اللہ سبحانہ کے احکام کی تعمیل اور اسکے حقوق کی ادائیگی کی تم خوب حفاظت کرو، اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائیگا،یعنی ہرطرح کی مصیبت و آفت، رنج و بلا سے تم محفوظ رہوگے، تم اللہ کو ایسے یاد رکھو جیسے کہ اسکو یاد رکھنے کا حق ہے تو اللہ سبحانہ کو تم اپنے سامنے پاؤگے، جو کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، مدد و استعانت کی ضرورت ہو تو وہ بھی اللہ سے۔ اور یہ بات دلنشین کرلوکہ ساری انسانیت تم کو فائدہ پہنچانے کیلئے مجتمع ہو اور پورے اتفاق کیساتھ تم کو نفع پہنچانا چاہے تو وہ کوئی نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اسی قدر جتنا نفع اللہ نے تمہارے لئے مقدر کردیا ہے، اور اگر ساری انسانیت تم کو نقصان پہنچانے کیلئے متفق ہوجائے تب بھی وہ تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے نقصان تمہارے لئے مقدر کردیا ہے۔ تقدیر کے لکھے پورے ہوچکے، لکھ کر قلم فارغ ہوگئے اور دفتر سوکھ گئے (مفہوم حدیث از ترمذی)۔ عقیدۂ توحید و عقیدۂ تقدیریہی درس دیتے ہیں کہ ہر قسم کا نفع و نقصان، رنج و غم اور راحت و آرام سب کا سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے، اسکے سوا کوئی اور طاقت نہیں ہے۔ یہ حدیث پاک ساری انسانیت کیلئے رہنما ہے اور امت مسلمہ کیلئے خاص طور پر اسمیں بڑی گہری بصیرت ہے۔

TOPPOPULARRECENT