تیسری عالمی جنگ ایٹمی اور تباہ کن ہوگی ، روس کا انتباہ

,

   

جنیوا/نئی دہلی/کیف/واشنگٹن: روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی اور زیادہ تباہ کن ہوگی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کونسل کے اجلاس سے ریکارڈ شدہ وڈیو خطاب میںروسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے متنبہ کیا کہ تیسری عالمی جنگ چھڑسکتی ہے۔ انہوں یوکرین کی جانب سے ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر کہاکہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوتی ہے تو وہ ایٹمی جنگ ہوگی اور سب کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔آسٹریلیا کی جانب سے یوکرین کو ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان پر سرگئی لاوروف نے دھمکی دی کہ اگر یوکرین نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو اسے حقیقی معنوں میں خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے عاید کی جانے والی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم امید ہے کہ روسی ایتھلیٹس، کھلاڑیوں، صحافیوں اور نمائندوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔سرگئی لاوروف نے یوکرین میں حملے کا دفاع کیا اور فوجی جارحیت کو خصوصی ملٹری آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے الزام عاید کیا کہ یورپ روس مخالفت جنون میں یوکرین کو مہلک ہتھیار فراہم کررہا ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ورچوئل خطاب کے لیے آئے تو 40 ممالک کے سفارت کاروں نے یوکرین پر روسی حملے کی مخالفت کی اور تقریباً 100سفارت کار احتجاجا اجلاس سے واک آوٹ کرگئے۔بائیکاٹ کرنے والوں میں یورپی یونین، امریکہ ،برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک کے سفارت کار شامل تھے جب کہ روسی وزیر خارجہ کے خطاب کے دوران چند سفارتکار ہی اجلاس میں موجود تھے جن میں شام، چین اور وینزویلا کے سفارتکار شامل تھے۔بائیکاٹ کرنے والے تمام سفارتکار چیمبر میں یوکرین سے اظہار یکجہتی کے لیے اس کے پرچم کے گرد جمع ہوئے۔انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے واک آئوٹ کی سربراہی کرنے والی یوکرین کی سفیر کا کہنا تھا کہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے یوکرین کی حمایت کرنے پر سب کے شکر گزار ہیں۔واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملوں کا ساتواں روز ہے جس پر مغربی ممالک نے صدرپوٹن سمیت روسی بینکوں، کمپنیوں، تاجروں اور اداروں پابندیاں عاید کرچکی ہیں جب کہ روسی افواج دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوچکی ہیں۔ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس امن مذاکرات چاہتا ہے توپہلے ہمارے شہروں پر بمباری بند کرے۔اپنے انٹرویو میں انہوںنے ناٹو کے رکن ممالک سے روسی فضائیہ کو روکنے کے لیے نو فلائی زون نافذ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصدناٹوکو روس جنگ میں گھسیٹنا نہیں بلکہ صرف روسی جنگی طیاروں کی روک تھام ہے۔ناٹورکنیت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ رکنیت ملنے کا امکان ختم ہوگیا یا ہمارے شراکت دار یوکرین کوناٹومیں شامل کرنے کو تیار نہیں ہوئے اور روس بھی ایسا ہی چاہتا ہے تو وہ قانونی طور پر پابند حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کریں گے۔یوکرین صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضامن ہماری علاقائی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ خصوصی تعلقات کی قانونی طور پر ضمانت دیں۔یوکرین کے صدر نے یہ انٹرویو سخت حفاظتی حصار میں برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز اور امریکی ٹی وی سی این این کے نمائندوں کو دیا۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور انہوں نے خاکی ٹی شرٹ، پتلون اور جنگی بوٹ پہنے ہوئے تھے۔ادھرجاپانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں بگڑتی صورتحال کے مد نظر اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔