نیویارک : امریکہ اور برطانیہ کے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی اور برطانوی افواج نے جمعہ کو یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری جہازوں پر متعدد حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں اب یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ان حملوں کے سبب تیل کی عالمی منڈی جمعہ کے روز توجہ کا مرکز بنی رہی۔ ان حملوں کے نتیجے میں خطہ میں وسیع تر تنازعہ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ خطہ خام تیل پیدا کرنے کی لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق تیل کی عالمی منڈی میں خوف پایا جاتا ہے کہ اس خطے میں حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں تجارت کو نقصان ہوگا اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ اس سے قبل حوثی باغی بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کرتے رہے تھے۔ ان کے مطابق وہ جنگ زدہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثی باغی بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں میں ملوث ہیں جو کہ ایک اہم بین الاقوامی بحری راستہ ہے