جادھو معاملے میں پاکستان ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب :آئی سی جے

   

اقوام متحدہ، 31 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے ) نے کہا ہے کہ کلبھوشن جادھو معاملے میں پاکستان نے ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ عدالت کے جج عبدالقوی یوسف نے اقوام متحدہ کو یہ اطلاع دی ہے ۔جسٹس یوسف نے آئی سی جے کی طرف سے اقوام متحدہ کو ایک رپورٹ سونپتے ہوئے کہا ہے کہ ‘‘عدالت نے یہ پایا ہے کہ پاکستان نے ویانا معاہدے کے آرٹیکل 36 کے تحت وعدے کی خلاف وزی کی ہے اورس معاملے میں کافی کچھ کیا جانا ہے ۔’’میں اب جادھو معاملے میں 17 جولائی 2019 کو آئی سی جے کی طرف سے دئیے گئے فیصلے کا ذکر کرتا ہوں۔ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا تھا اور وہاں کی فوجی عدالت نے کلبھوشن جادھو کو اپریل 2017 میں موت کی سزا سنائی تھی۔اس معاملے کو ہندوستان نے اٹھایا تھا اور یہ کہا تھا کہ ویانا معاہدے کی 1963 کے تحت کلبھوشن کو پاکستان سفارتی رابطہ (کونسلر ایکسس) کی اجازت دینے سے منع کررہا ہے ۔جسٹس یوسف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسا کرکے پاکستان نے ویانا معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ‘‘جادھو کی سزا کے بارے میں موثر طریقے سے جائزہ اور سزا پر از سر نو غورکرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے اور یہ کہا ہے کہ اس معاملے میں دیگر ثبوتوں پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ ویانا معاہدہ کی خلاف ورزی سے جو اثر پڑا ہے اس پر اور اس معاملے میں تعصب برتا گیا ہے اس کی پوری تحقیقات کرانے کی پاکستان کو طمانیت دینی چاہئے ۔